سادگی کیا ہے؟

سادگی کیا ہے؟

کبھی غور کریں تو اس کا مطلب بنتا ہے۔ اپنے لیے آسانی۔ مگر کیا آج کل کے مروجہ معیار کے حساب سے سادگی کا کیا معیار ہے؟
کبھی سوچا؟
ہاں یہ سوچ آئی اور بہت بار آئی۔۔

کہیں یہ سن کر۔۔ ” آج تو دعوت ہے گھر میں۔۔ ڈنر/لنچ مینیو کیا ہے؟”

” بھئی بڑی مہنگائی ہے کہاں سے پورا کرے بندہ بس دو چار چیزیں عزت بچانے کو منگالیں اب پورے مہینہ بجٹ ڈسٹربڈ رہے گا۔۔

کبھی ایسا سن کر کہ:” فلاں کی نئی گاڑی ہے ہم کو بھی ماڈل چینج کرنا ہی پڑے گا۔”

اب آتے ہیں زرا متوسط طبقے سے ایک درجہ نیچے محنت کش طبقہ۔
آتے ہی آپ کی ماسی کہے گی باجی فلاں جوڑا مجھے کو دے دو اور ہاں زرا بیلچ بھی کردو میرے کو فلاں میلے میں گاؤں جانا ہے۔
کسی کو برانڈڈ موبائل چاہیئے تو کسی کو کسی مشہور آؤٹ لیٹ کا تیار جوڑا۔

آپس میں جہاں دو لوگ بیٹھے بات کچھ شروع کی جاتی ہے۔
"بھئی اتنا سستا مل رہا تھا پندرہ’ پندرہ سو کے چار جوڑے اٹھا لیے۔ مگر اتنے کیا کروں گی میں سوچ رہی ہوں کچھ اس میں سے ماسی کو دے دوں”

ایک آنکھوں دیکھا واقعہ۔
یہاں خاص کر کراچی شہر کا۔ کچھ لوگوں نے "کے ایف سی” کی ایک ڈیل لی ہوگئی کوئی 1000 روپوں تک کی اور باہر جاکر کوڑے میں پھینک دی کہ کون کھاتا ہے ایسا کھانا۔۔

اس کے بعد کیا سوچ آئے گی کہ ہمارا معاشرہ کس تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ بحیثیت قوم ہم کہاں کھڑے ہیں۔ جس کا سب سے زیادہ شور اٹھتا ہے مسلم معاشرے اس کے اثرات کیا ان لوگوں تک پہنچ رہے ہیں جن تک پہنچنے چاہیئے۔۔
مانا’ ہمارا معاشرہ زکوٰۃ کے نام پر بہت کچھ دیتا ہے۔ بہت لوگ بہت لوگوں کی مدد بھی کرتے ہوں گے۔
مگر نمائش’ تصنع ایسی سوچ کیوں کب اور کیسے در آئی ہمارے اندر۔؟
کیا اس پر سوچنا فرض نہیں بنتا۔
کیا ہوا اگر آپ بہت کچھ افورڈ کرسکتے ہیں اگر اس میں سادگی در آئے تو جو یہ دوڑ شروع ہوگئی ہے یہ تو رکے گی۔
ایک دفعہ بس ان سے متعلق سوچ لیا جائے کہ جو یہ سب بس سوچ سکتے ہیں افورڈ نہیں کرسکتے۔ تو کیا دل مانے گا آپ کا۔۔

اس کے بعد کے بگاڑ کا سوچا’
اگر نہیں تو
کراچی جیسے شہر میں ہی دن بدن بڑھتی اسٹریٹ کرائم کی تعداد پر غور کر لیجئے گا۔ جہاں صرف ایک سیل فون چھننے کے لیے ایک جان بھی لی جاتی ہے۔

میرا پہلا بلاگ ہے مگر کچھ زیادہ جزباتی ہوگیا ہے۔
مگر تبدیلی گھر سے شروع ہوتی ہے۔
سادگی جو ہمارے دین کا وصف ہے اس کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
بہت شکریہ۔

Advertisements

2 thoughts on “سادگی کیا ہے؟

  1. ميں ۔بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ يا تو يہ دماغ کا خلل ہے يا پھر احساسِ کمتری ۔ لوگ اپنے اندر کو بہتر بنانے کی بجائے اپنے باہر کو بہتر کو بہتر بنانے ميں دولت اور وقت ضائع کرتے ہيں ۔ کوئی قرآن شريف کو سمجھنے کی کوشش کرے تو اُسے معلوم ہو کہ نمود و نمائش حرام ہے ۔ جسے ديکھو وہ يہی کہتا ہے ” لوگ کيا کہيں گے” ۔ کسی کو يہ فکر نہيں کہ اللہ کے سامنے جوابدہ ہونا ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s