دھوبی گھاٹ

دھوبی گھاٹ

نام سن کر سوچ رہے ہوں گے کہ کسی علاقے کا ذکر ہوگا جہاں قسم قسم کے کپڑے اپنی الگنیوں پر پڑے سوکھ رہے ہوں گے اور پانیا میں شڑاپ شڑاپ دھوبی اپنا کام کر رہے ہوں گے۔
یا پھر ابھی حال میں ریلیز ہوئی ایک فلم ” دھوبی گھاٹ” کا ریویو ہوگا۔ ریویو تو نہیں اس کے لیے بہت علم چاہیے۔ ہاں مگر اس مووی کو دیکھ کر سوچ کے کئی در وا ہوئے۔
دھوبی گھاٹ ہر علاقے میں ہی ہوتے ہیں برصغیر میں کم و بیش ایک ہی طرح کے ہوتے ہوں گے۔ وہی بڑے بڑے جوہڑ اور ان میں پانی میں اپنا پسینہ ملاتے دھوبی۔
فلم چار بلکہ یوں کہنا چاہیے پانچ کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔
میری خوش قسمتی مجھے وہ ڈی وی ڈی دیکھنے کو ملی جو ٹورنٹو فلم فیسٹول میں پیش کی گئی تھی اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میں گانوں سے محروم رہی اور مووی سکڑ کر 100 منٹ کی ہوگئی۔ جب آپ 100 منٹ اپنی زندگی کے کسی چیز کو دیتے ہیں تو اس میں کچھ حاصل بھی کرنا چاہیے نا۔۔۔؟
تو وہ سو منٹ میں ایک ایک منٹ کارآمد تھا۔۔۔ مصنف نے بڑی چابکدستی سے دیکھنے والے کو اپنی گرفت میں رکھا۔ شروع میں انتہائی الجھن ہوئی اور یہی الجھن آخر تک مووی دیکھنے پر مجبور کر گئی۔
مبمئی کا انتہائی گنجان علاقہ دکھایا گیا اس میں۔۔۔ ویسے ہی علاقہ جو کہ آج کل ہر میٹروپولیٹن کا خطاب رکھنے والے شہروں میں ہوتا ہے چاہے کراچی ہو، چاہے نیویارک ہو یا پھر کچھ بھی ایکس وائی زیڈ اس کا نام ہو۔
بڑے شہر عموما لوگوں کا ایک جھنڈ ہوتے ہیں ہر قومیت سے الگ سے دکھتی ہے اپنی پہچان رکھتی ہے چاہے معیار کچھ بھی ہو بالکل دھوبی گھاٹ کی ایک ہی الگنی پر پڑے مگر اپنی پہچان سے خوب آگاہ رکھنے والے کپڑے۔۔۔ اپنے رنگ سے، اپنے معیار سے پہچان لیے جانے والے کپڑے۔۔۔۔ کلاس جو بھی ہو لٹکنا ایک ہی الگنی پر پڑتا ہے۔۔ بالکل کسی میٹروپولیٹن شہر کی مانند۔۔
تو اس مووی میں بھی کچھ لوگ ایسے ہی آپس میں جڑے ہوئے تھے۔۔۔ اس سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جڑنے کے لیے کچھ خاص ہونا ضروری نہیں ہے بس "ہونا” ضروری ہے۔ حالات کبھی کسی کو پاس لے آتے ہیں اور وہی حالات دور لے جاتے ہیں۔۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ کلاس کانشسنیس سب ہوا ہوجاتا ہے۔۔۔۔ بس وہ ” لمحہ” رہ جاتا ہے۔۔
ہم لاکھ چاہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے۔۔۔ بےشک ہمارے دیکھنے کا زاویہ ایک دوسرے کتنا مختلف ہی کیوں نہ ہو۔ ایک کمرے کی کھڑکی ہم کو نظر ہی کیوں نہ آئے۔۔۔ مگر وہی کھڑکی دوسرے کی زندگی کا اہم حصہ بن جاتی ہے۔۔۔ اور کبھی کبھی جب ہم اس حصے میں جھانک لیں تو لگتا ہے۔۔۔۔ ارے۔۔۔۔۔۔۔! ایسے بھی ہوتا ہے یہاں سے یوں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
ایک جگہ اگر رہنے کا اتفاق ہو، ایک ہی جیسی مکانیت ہو مگر ہم اس کو بالکل الگ طریقے سے سجاتے ہیں سنوارتے ہیں۔۔ ہم بےشک ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں حالانکہ ایک ہی طرز پر بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔ کبھی کسی اور میں ٹرانسفورم ہو کر ضروری تو نہیں بنیادی ماہیت تبدیل ہوجائے؟
کبھی ایسا بھی کر کے دیکھنا چاہیے۔۔۔۔۔ کبھی ایسا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اس کی مشکلات برداشت کرنا چاہیے تب ہی تو نئی دنیا آشکار ہوگی جو کہ ہمارے بالکل برابر میں ہوگی کب سے اور ہماری نظر تک پہنچنے کا وقت لگا بس۔۔۔۔۔۔
کبھی اپنی غرض کی وجہ سے بھی ہم اپنی بنائی ہوئی کلاس سے نیچے آ جاتے ہیں اور نہ جانے کیسے وہاں بھی اپنی جگہ بنا لیتے ہیں تو کیا یہ فرق ہمیشہ سے ہے؟
ہم وہاں بھی خوش رہ سکتے ہیں۔۔۔ مطئمن ہوسکتے ہیں۔۔۔ مگر قیمت وہی ہے حرکت میں رہنا۔۔۔ جمے رہنے والی چیز کو کچھ نیا نہیں علم ہوتا۔۔۔ وہ رہتی ہے اور اپنی طبعی عمر پوری کر لیتی ہے۔
شاید یہ بلاگ بےربط لگ رہا ہے ہو۔۔۔۔ مگر ہو یہ بھی سکتا ہے آپ کو کچھ کام کی بات دکھ جائے۔ بھئی زاویہ نظر جو الگ ہوگا۔۔ کبھی اپنی زندگی کے سو منٹ ایسے استعمال کر کے دیکھیے۔ جیسے ان چاروں نے کیے تھے اس پانچویں فیکٹر کے ساتھ۔

Advertisements

5 thoughts on “دھوبی گھاٹ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s