میں ایک تہمت بھری غزل ہوں از مونا سید

خوش ادا، خوش شکل، سرو قد،قاتل ابرو، انتہائی خوش کن آنکھیں۔۔۔ اس نے ناز سے ابرو چڑھائے تو پرس میں رکھے آئینے پر ایک تنقیدی نگاہ دوڑائی۔۔ اس نے ایک گہری سانس لے کر سوچا ۔۔ ” کیا نہیں ہے مجھ میں۔ جب ہی تو بڑے بڑے امیر، وزیر میرے آگے پیچھے گھومتے ہیں۔۔۔۔ ہائے!!”۔
یہ "ہائے” سن کر اس لمبی چوڑی گاڑی میں جس کا نام تک اس کے لیے نامعلوم تھا اس کے ساتھ بیٹھی عالیہ نے استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔ جیسے پوچھ رہی ہو کیا بات ہے۔۔۔
” کچھ نہیں۔۔” اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔ خاص ذوق رکھنے والے ایک وزیر کے گھر آج اس کا جلوہ تھا۔ تعلیم کی کمی کبھی آڑے نہیں آئی، حسن ایسا کہ دھار کی طرح کاٹ دیا کرتا تھا، اور اسی کی مہربانی نے اس کو برائے فروخت بنا دیا تھا۔
” برائے فروخت!” گاڑی ایک دھچکے سے رکی تھی۔ سگنل بند ہوا تھا شاید اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔
” ایسے ہی ایک سگنل تھا جس نے اس کو سپنا بنا دیا، شہر کے کچھ چوراہے ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں زندہ گوشت کی خرید و فروخت ہوتی ہے ، گوشت جس کی زندگی پیٹ کے گرد گھومتی ہے، پیٹ بھرنے سے پیٹ ہونے تک چلتا ہے۔ سانس بھی آئے تو پیٹ سے ہو کر ہی نکلتی ہے۔
” "گاڑی کا شیشہ چڑھا لے ری نہیں تو گند آئے گی۔۔۔۔” عالیہ نے کہا تھا یہ۔ اس نے سر گھمایا نظر ایک بوڑھی فقیرنی پہ پڑی.
” یہ بھی ہماری ہی لائن کی نکلی۔۔۔ فرق صرف مانگنے کے طریقے کا ہے۔۔” سوچیں، لاتعداد سوچیں اب ان کے سوا اور تھا بھی کیا زندگی میں۔
” اللہ کے نام پہ دے دو بیٹا!”
” بیٹا!” اس کی ہستی میں "ایولانچ” پیدا ہوا، جو اس کی ذات پر جمائی تہہ در تہہ پرتوں کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ مگر وہ عورت۔ ۔ ۔ ۔ اس نے غور کیا۔ ۔ ۔ کچھ کچھ مانوس کیوں ہے۔۔
” ہاں! یہ بالکل میری ماں جیسی ہے۔۔” ویسی ہی مدقوق شکل، انتہائی کمزور جسم اور کچھڑی بال۔۔۔” اس نے اس کے ہاتھ میں پورا پچاس کا نوٹ رکھا۔۔
” ہائے ری یہ کیا اتنے کیوں دیے۔۔۔” عالیہ کو پھر اعتراض ہوا۔۔
تو چپ کرری۔ ” اس نے ہاتھ جھٹکا۔ ” ابھی اپن لوگ بھی ہائی اسٹینڈرڈ میں آئے ہیں یہ باتیں نظر انداز کیا کر۔۔ شودی نہ ہو تو۔” آخر جملہ اس نے منہ ہی منہ میں بڑبڑایا تھا۔
گاڑی سگنل سے آگے بڑھ گئی مگر اس کا دھیان اس عورت میں اٹکا رہ گیا۔۔ اس کی ماں بھی تو ایسی ہی تھی اپنا پیٹ کاٹتی تھی اور اس کا کبھی خالی نہ رہنے دیا تھا۔ وہ اس کے بڑھاپے کی اولاد تھی۔۔۔ نہ جانے کتنے مزاروں پر منتیں اور چڑھاوے چڑھائے گئے تھے۔۔ جب کہیں جا کر اس نے جنم لیا تھا۔ مگر کیا اس کا جنم ہوا تھا یا بدنامی نے گھنگرو چھنکائے تھے۔
اچانک گاڑی نے جھٹکا لیا۔ اس کے منہ سے آہ نکل گئی۔۔ عالیہ ہنوز اس کی طرف سے لاتعلق اے سی میں مزے سے بیٹھی اپنے خیالوں میں محو تھی۔ جب سے ان کے دن بدلے تھے عالیہ کے بھی حالات نے کروٹ لی تھی اچھے کی طرف۔۔ ابھی بھی شاید اس نے آئی پوڈ لگا رکھا ہے اور پروگرام کے لیے ریہرسل کر رہی ہے شاید۔۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔۔۔
اس نے یادوں کے دریچے میں پھر جھانکا۔ صرف اس کی ماں تھی جس کے چہرے پر رونق کی وجہ وہی تھی۔۔ پورے سات سال اس نے اس کو سب سے چھپا کر رکھا۔ اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے۔۔۔ نہیں تو بہتتتتتت پڑھے۔۔۔ اس کو مبہم سا یاد تھا شاید بچپن میں جو چیز بار بار دہرائی جائے وہ ذہن کی سلیٹ پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ہے۔۔۔ اگر وہ پڑھ لیتی تو حالات۔۔۔۔ مگر اسکے تو باپ نے بھی ایکدن اس سے اپنا نام چھین لیا تھا۔ شاید ایک مرد تھا۔ ادھیڑ عمر میں آنے والی اولاد کی سب سے بڑی غلطی حسین ہونا ہوتی ہے۔ اور اگر ماں باپ دونوں قبول صورت ہوں تو باپ کے بیٹی کو "سپنا” بنا ڈالنا آسان ہو جاتا ہے۔ لاوارث چھوڑ دو۔ ہر روز نیا وارث ڈھونڈھ لے گی، خود رو بیل کی طرح
کیا کہا تھا استانی نے۔۔۔ اس نے یاداشت پر زور ڈالا۔ ” ہاں۔۔۔۔ یہ تو بہت پیاری بچی ہے۔۔۔ مگر اس کا نام۔۔۔” استانی بھی ششدر رہ گئی تھی مگر داخلہ نہیں دیا گیا تھا۔
” دیکھو ماں میں چٹی ان پڑھ ہوں۔۔۔ تم نے تو جانے کیا کیا سوچا تھا۔۔” اس نے نزاکت سے آنکھ میں آیے آنسو صاف کیے تھے۔
وزیر صاحب شوقین آدمی ہیں ایسا نہ ہو کہ میرا ڈل فیس دیکھ کر ان کا موڈ چوپٹ ہو جائے اور آج کے پروگرام کی کامیابی بہت ضروری ہے۔۔” وہ جیسے واپس ماضی سے حال میں آئی تھی اور اپنے پرس میں سے پھر آئینہ نکال کر جتن کرنے لگی کہ فریش لگے۔۔
” میک اپ کی تو میں بڑی ماہر ہوں۔۔ کیا ہی ریما، میرا کرتی ہوں گی۔۔۔۔۔۔” آسودگی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔ اس نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔۔ اور آنکھیں موند لیں۔ آنکھیں بند کرتے ہیں ہی یادوں کا سیل رواں پھر سے جاری ہو گیا۔
” ماں کے گزر جانے کے بعد دوسری ماں اس کا گرو ثابت ہوا، جس نے گھربدر کیے جانے کے بعد اس کا ماں کی طرح خیال رکھا۔۔ وہ شروع میں تو بس روتی رہتی تھی۔۔۔۔ مگر گرو کبھی پیار سے بسکٹ کھلاتا تو کبھی ٹافی اور پھر ہاں ماں کی طرح چمٹاتا بھی تو تھا۔۔ شروع میں اس نے گلیوں میں ناچنا شروع کیا تھا یہ گرو ہی تو تھا جس نے کہا تھا۔
” ان گندی گلیوں میں رہوگی تو یہاں کا ہی رزق ہو جاؤ گی اپنی قدر کرانا سیکھو۔۔ تم بہت خوبصورت ہو اپنی قیمت آپ طے کرو، یہاں آنے والے تماش بین تمہارے قابل نہیں ہیں۔۔”
یہ اس کی پہلی پرفارمنس کے بعد کی بات ہے وہ چپ چاپ بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔ اس سے لوگوں کی گندی نظریں برداشت نہیں ہوئی تھیں۔۔ بات غلیظ نظروں تک رہتی تو وہ شاید نظر انداز کر دیتی مگر گندے فقروں کے ساتھ اس کے کپڑے کھینچنا، سینے پر ہاتھ مارنا اور چٹکیاں لینا۔ یہ اس سے بالکل برداشت نہیں ہوا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا۔ کہ وہ یہ کام نہیں کرے گی۔۔
” گرو میں یہ کام نہیں کروں گی بھیک مانگ لوں گی۔۔۔۔” تب ہی اس کے گرو نے اس کو سمجھایا تھا۔ "یہ ہمارا مقدر ہے اگر بکنا ہی ٹھہرا تو انمول کیوں نہ ہوجائیں۔۔”
” ہاں میں انمول ہوں۔۔۔۔ بہت بڑی قیمت لگتی ہے میری۔۔۔” اس نے ہنکارہ لیا اور گاڑی سے باہر دیکھنے لگی۔ وزیر صاحب کا گھر اب قریب ہی تھا۔
دل ہی دل میں وہ گنگنائی تھی۔
” میں ایک تمہت بھری غزل ہوں۔۔” یہ اس کی خود کی کہی گئی نظم تھی۔ لکھی یوں نہیں گئی تھی کبھی کہ اس کو لکھنا نہیں آتا تھا۔ ماں نے کچھ سکھایا تو تھا مگر اب وہ سارے حروف تک یاداشت سے مٹ چکے تھے۔۔۔
” ری عالیہ! اٹھ کیا سو سو کر بتائے گی آنے والا ہے گھر اب۔۔”
"
ایں گھر۔۔۔۔۔۔!” گانے سنتے سنتے سو گئی عالیہ کی آنکھ کھلی پھر بات سمجھ پر آنے پر ہوشیار ہوگئی۔” گھر بھی بھلا ہم لوگ کے مقدر ہوا کرتے ہیں۔۔۔ اس نے سوچا تھا۔
گاڑی گیٹ پر رک چکی تھی اور باہر کھڑے وزیر صاحب کے سیکریٹری کی موجودگی بتاتی تھی کہ کتنی بےتابی سے اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
” آئیے آئیے سپنا جی آپ کا ہی انتظار ہو رہا ہے۔۔۔۔” سیکریٹری صاحب نے بانچھیں چیری تھیں۔
اس نے نزاکت سے اپنا پاؤں باہر نکالا تھا پنک شیفون کی ساڑھی اس پر خوب جچ رہی تھی۔۔” کم عالیہ بھی نہیں مگر اس میں ہے کچھ خاص۔۔۔”
” اے سیکریٹری ! سب ایک دم فٹ سیٹ ہے نا۔۔۔۔” عالیہ کی کلاس بدلی تھی مگر ٹھٹھے کرنے کی عادت نہیں جاتی تھی۔۔ وہ تھی بھی منہ پھٹ کہ سامنے والے کو عزت بچانی مشکل ہوجائے۔
سیکریٹری منہ بنا کر رہ گیا۔۔ اس کو خوب احساس تھا کہ اس کی کوئی عزت نہیں۔ یہ دوکوڑی کے لوگ بھی ایسے مخاطب کر سکتے ہیں۔
” جی سب سیٹ ہے آپ اندر آئیے۔۔ وہ دونوں سیکریٹری کی ہمراہی میں خراماں خراماں اندر داخل ہوئیں۔ اندر پارٹی عروج پر تھی۔ ڈیک کا نظام نہایت عمدہ تھا۔ایسا لگ رہا تھا چاروں طرف ایک ہی گانا گونج رہا ہو۔
” اوہ سپنا ڈارلنگ! ” وزیر صاحب کا موڈ اچھا تھا لگتا تھا کافی تیاری کی ہوئی تھی۔
"
بس اب شروع ہو جاؤ اب مزید انتظار نہیں ہوتا۔ آج موڈ بنا دو بس پھر دبئی چلیں گے۔۔۔۔” عالیہ کا چہرہ دبئی سن کر کھل گیا۔ سپنا نے ایک ادا سے گردن گھما کر دیکھا۔۔ ابھی تو اس کو یورپ بھی دیکھنا تھا۔
گانا منسٹر صاحب کا پسندیدہ تھا وہ اکثر اس پر سپنا کو محو رقص دیکھنا پسند کرتے تھے۔
دھن شروع ہو چکی تھی۔۔ ایک دھن سپنا کے اندر بھی چھڑی تھی۔۔۔ مگر جسم تو باہر کے دھن پر لے لینے لگا تھا۔
سیاں ہے ویوپاری
چلیں ہیں پردیس
صورتیاں نہاروں
جیارہ بھاری ہووےے۔
سسرال گیندہ پھول
اس پر ایک شور و غوغا بلند ہوا۔۔ ” واقعی سپنا کا جواب نہیں۔۔” سسری آج تو ساڑھی میں اور غضب ڈھا رہی ہے۔۔” یکے بعد دیگرے اس کی سماعت سے ٹکرائی تھیں یہ آوازیں۔ اس کا جسم تال پر لہرا رہا تھا۔۔ ایک رقص اس کے اندر بھی چل رہا تھا
ساس گاڑی دیوے
دیور سمجھا لیوے
سسرال گیندا پھول
” کیا ہم جیسوں کے نصیب میں ہوتا ہے سسرال۔۔۔” سپنا نے نرت کا ایک اور انداز اپنایا تھا جس پر شور وغوغا ہوا تھا۔۔
سیاں چھیڑ دیوے
نند چٹکی لیوے
سسرال گیندا پھول
اس کے نوچنے کھسوٹنے کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ مہذب لوگ اپنے مکوٹھے اتار چکے تھے بھیڑے کھال سے باہر آ گئے تھے۔۔ اس کے جسم پر لگے زخموں کا شمار کیا جاسکتا تھا دریدہ روح کا نہیں۔ باہر گانا چل رہا تھا۔
چھورا بابل کا انگنا
سسرال گیندا پھول
اندر درد تھا اور بہت درد تھا ہاں وہ ایسی کیوں بنائی گئی تھی۔۔ اس کا کیا قصور تھا۔
میں ایک تہمت بھری غزل ہوں
نہ بابل کی پیاری
نہ کسی کی دلاری
نہ میں مذکر، نہ میں مؤنث ہوں
میں بس ایک مخنث ہوں۔
آج نجانے کیوں اس کے رقص میں ایک وحشیانہ پن تھا۔
Advertisements

One thought on “میں ایک تہمت بھری غزل ہوں از مونا سید

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s