ایک ادھوری کہانی

"ہائے میرے اللہ! یہ تو نے کیا کر دیا؟” ماسی خدیجہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔ یہ منظر اس کی آنکھیں دیکھیں گی، اس نے کبھی یہ گمان تک نہیں کیا تھا۔۔ اس نے تو کبھی کسی کو بددعا تک نہیں دی تھی، کسی کے ساتھ نادانستہ طور پر بھی برا نہیں کیا تھا۔۔۔۔
"پھر۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ایسا کیوں ہوا؟” اس کے جسم میں لرزش بڑھ رہی تھی، ٹانگیں اس کا بوجھ سہارنے سے انکاری تھیں۔۔۔۔ دل۔۔ دل کا عالم تو سوا تھا۔۔۔
"شاید یہ میرا آخری دکھ ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد تو میں جی ہی نہیں پاؤں گی۔۔۔۔” یہ اس کی آخری سوچ تھی، اس کے بعد اس کے ہاتھ نیچے بیٹھے وجود پر بے دریغ چلنے لگے، وہ جس نے کبھی کسی کو برا نہ کہا تھا اس کے لیے بددعائیں نکلنے لگیں، وہ کیا کہہ رہی تھی۔ خود سننے سے قاصر تھی۔۔ مگر زبان قابو میں نہیں تھی۔۔
"یہ تو نے انصاف کیا ہے میرے ساتھ؟”
نیچے بیٹھا وجود چپ۔
"یہ میرے رحم کا صلہ دیا ہے تو نے؟”
وہ بدستور چپ۔۔۔
"یہ۔۔۔۔ یہ میرے پیار کی قدر۔۔۔۔۔۔۔” خدیجہ ہانپنے لگی۔
مگر وجود کی چپ نہ ٹوٹی۔۔۔
"کچھ بول مرجانیے۔۔ ایک ماں کے کلیجے کو نوچ کر بھی تو چپ ہے؟” خدیجہ کے بین باہر برستی بارش پر بھاری پڑ رہے تھے۔۔
"ماں۔۔۔” وجود میں تھوڑی سی تھرتھراہٹ ہوئی۔۔۔
"بالکل ویسے ہی چپ۔۔۔۔۔ جب تو نے یہاں پہلی بار قدم رکھا تھا۔۔۔۔۔ اس کا بدلہ تو ایسے دے گی۔۔۔۔ خدیجہ نے اس دن انصاف نہ کیا ہوتا تو یہ۔۔۔۔۔ یہ۔۔۔ آج یہ نہ دیکھنا پڑتا۔۔۔ ہائے میرے ربا!۔۔۔” اس کی سینہ کوبی باہر گرجتے بادلوں پر بھی بھاری تھی۔۔
"تو نے رحم نہ کیا ہوتا اماں! تو آج یہ نوبت نہ آتی۔۔۔۔” وجود کے اندر سوچ گھمیریاں لینے لگی۔
"اسی دن انصاف کیا ہوتا تو جو آج گھٹا ہے وہ کبھی نہ ہوتا۔۔۔۔۔ نہ تجھے دکھ دیکھنا ہوتا اور نہ۔۔۔۔ نہ ہی اس اللہ رکھے کو۔۔۔۔۔۔” وجود کے اندر کی تلخی نے اپنا رنگ گہرا کیا۔۔۔۔

٭- – – ٭ – – – ٭

چھوٹی مگر ہیرے کی چمک کو مات کرتی آنکھیں، تھوڑی پھیلی ناک، لعلیں لبوں کے گوشوں سے پھوٹتی ہنسی کی پھوار، مانو چاروں اور رس کے فوارے ہوں۔ بولتی تو بولتی چلی جاتی، ہنستی تو کسی کے روکنے سے نہ اس کی ہنسی قابو میں آتی۔ وہ سرتاپا رس سے نچڑتی تھی۔۔۔ چوڑے مضبوط شانے، اس کی کاٹھی میں ایک مضبوطی تھی۔۔ اس کے پورے خاندان میں اتنی سفید رنگت کسی کی نہ تھی۔۔۔ ماں باپ دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔۔ بلائیں لیتے نہ تھکتے ہر آیا گیا پوچھتا۔
"یہ کس پر گئی ہے۔۔۔” اس سب میں معمولی نقوش کہیں پیچھے رہ جاتے۔

وہ ایک قصبہ تھا۔۔۔ جیسے اور بہت سے ہوتے ہیں۔۔ ایک چوراہا جس میں ایک فوارہ بھی لگا تھا یہ اور بات ہے کہ اس میں کبھی پانی نہ دکھائی دیا، فوارے کے گرد سارا بازار جہاں اشیائے ضرورت ملتی ہیں، ایک طرف میونسپل کی ٹنکی جہاں سے سارے قصبے کو پانی سپلائی ہوتا تھا اور پھر اس کے ساتھ ساتھ بتدریج بڑھتے مکان۔۔
اس کا باپ اپنا پیٹ کاٹ کر اس کو پڑھا رہا تھا۔۔ وہ اس کی زندگی تھی۔۔ بیٹے اس کے کئی تھے مگر لڑکی اس کے یہاں ایک ہی ہوئی تھی اور اس کی امیدوں سے بھی بڑھ کر ہوئی تھی۔ ماں اس پر مہربان تھی۔۔
"دیکھ لاجو! جلدی آ جانا۔۔۔ آج موسم خراب ہے۔۔۔” ماں نے اس کو کوئی پندرھویں باری کہا تھا یہ سب۔۔۔ اور اس کی ہنسی سمٹنے میں ہی نہیں آ رہی تھی۔۔۔
"آجاؤں گی ماں پہلے، جانے تو دے۔۔۔۔” اس کے ہونٹ اس کا ساتھ نہیں دیتے، ہنستے چلے جاتے تھے اور پھر اس کا پورا وجود ہنستا چلا جاتا تھا۔۔۔۔۔ ماں کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی۔۔
"اچھا ماں میں چلی۔۔۔۔۔” اور آخری بار تھا جب اس کی ماں نے اس کی آواز سنی تھی۔

وہ میٹرک کر رہی تھی اور پورے قصبے کی پہلی لڑکی تھی جو ذرا فاصلہ پر واقع ایک اور قصبے میں جہاں ہائی اسکول تھا پڑھنے جاتی تھی۔۔۔
موسم کے تیور اچھے نہیں تھے۔ مگر اس کی عمر ایسی تھی کہ یہ بھی اچھا لگ رہا تھا۔۔ گھٹائیں گھر گھر کر آ رہی تھیں۔۔۔ اور تانگے والا چاچا اس کو لینے نہیں آیا تھا۔۔
اس نے اپنی سنگی سہیلی کو آخری سلام کیا اور خود گھر کی طرف چل پڑی۔۔۔۔
یہ اس قصبے میں کسی نے آخری بار دیکھا تھا اس کو۔۔

٭- – – ٭ – – – ٭

” ہائے میرے اللہ! یہ تو نے کیا کر دیا اللہ رکھے۔۔۔۔” گہری سانولی، دبلی پتلی مگر مضبوط کاٹھی والی خدیجہ کا واویلا سن کر گاؤں میں جتنے لوگ اس وقت موجود تھے سب اس کے آنگن کی طرف بڑھے۔۔
چھوٹی آبادی والا یہ گاؤں کوئی تیس چالیس گھروں پر مشتمل تھا اور ماسی خدیجہ گاؤں کی اکلوتی دائی تھی۔۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا۔۔ اللہ رکھا۔۔۔ جو دیکھنے میں تو دیو زاد تھا مگر ذہنی طور پر کچھ پسماندہ تھا۔۔
اس کے گھر کے آنگن میں دروازے کے بالکل ساتھ گولڑ اور املتاس کے پیڑ تھے۔ جو اللہ رکھے کے ساتھ ہی پلے بڑھے تھے۔۔ ماسی کو تینوں سے ایک جیسی ہی محبت تھی۔۔ مگر اس کی آنکھیں جو دیکھ رہی تھیں وہ انہوں نے کبھی نہیں دیکھنا چاہا تھا۔
” ہائے گاؤں والوں۔۔۔ یہ دیکھو۔۔۔ یہ کیا کر دیا اس نے۔۔۔۔” اس نے دو ہتھڑ اپنے سینے پر مارے۔ باہر بارش برس بدستور جاری تھی۔۔
جتنی بھی آنکھیں وہاں موجود تھیں ان کو اپنے نگاہ پر شک ہونے لگا۔۔۔
” اللہ رکھا۔۔!”
” یہ اس نے کیا ہے؟” ایک آواز میں حیرت تھی۔
"نہیں۔۔ نہیں ماسی کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔۔۔۔۔”
"ہاں بھلا یہ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔۔” چوتھی آواز سنائی دی۔
اور بات سچ تھی سامنے پڑے وجود کی حالت دیکھ کر بھی کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اللہ رکھا ایسا کرسکتا۔۔ وہ ذہنی طور پر تھوڑا پسماندہ تھا مگر اس نے کبھی کوئی غلط حرکت نہیں کی تھی۔ ماں جیسے کہتی جاتی وہ ویسا ہی کرتا جاتا۔۔
"ہائے ماسی! یہ۔ یہ کہاں سے آئی۔۔۔؟” اسی آواز نے آ گے بڑھ کر اس وجود کو اپنی بوسیدہ سی چادر سے ڈھک دیا۔۔
وہ وجود سر سے پاؤں تک تار تار تھا۔۔ زخم زخم، نیلوں نیل۔۔۔ کپڑے بھی پورے نہیں تھے اس تن پر۔۔ اور اس وقت وہ نیم بے ہوش تھی اور بار بار کراہیں نکل رہی تھیں اس کے منہ سے۔۔
ماسی خدیجہ اب صورتحال کو جھیل چکی تھی اس کے اندر اپنی شخصیت کی ازلی مضبوطی ابھر آئی تھی۔۔
"نسیماں! پہلے تو اس کے کپڑے بدلا۔۔” ماسی خدیجہ نے مضبوط آواز میں کہا۔۔ "دودھ میں ہلدی ڈال کر لاتی ہوں۔۔ اور ٹکور کی بھی ضرورت پڑے گی۔۔”
اس کے بعد وہ آگے بڑھی اور دو ہتھڑ اللہ رکھے کے جڑے جو ایک طرف کھڑا تھا۔۔ اس وقت تو ماسی کو شرم سار لگا۔۔۔ ماسی نے اس کے ہاتھ پکڑے اور اس کے لے جا کر دوسرے کمرے میں بند کر دیا۔
"تجھ سے تو میں صبح نمٹوں گی۔۔۔ ابھی تو اس بچی کی فکر ہے۔۔ دعا کرنا کہ وہ بچ جائے۔۔۔ نہیں تو اپنے ہاتھ سے تجھے دفناؤں گی۔۔ یاد رکھنا اللہ رکھے۔۔۔۔ اس دن کے لیے تجھے رب سے مانگا تھا میں نے۔۔۔۔” اس کی کراہ نکل گئی۔
اور اللہ رکھا چپ چاپ کمرے میں بند ہوگیا وہ اپنی ماں سے ایک لفظ بھی نہ کہہ سکا۔
اور صبح پورا گاؤں ماسی کی عدالت میں موجود تھا۔۔ ماسی کی پورے گاؤں میں بہت عزت تھی۔ مگر اس وقت جتنے منہ تھے اتنی باتیں تھیں۔
"ماسی کا ایک ہی پتر اور وہ بھی ایسا۔”
دوسری آواز۔۔ "اب ماسی کرے گی کیا؟”
"کرنا کیا ہے، دونوں کو گاؤں سے نکال دینا چاہیے۔” یہ تیسری آواز تھی۔
رات جو طوفان تھا اس کی تباہی کے آثار چاروں طرف دیکھے جا سکتے تھے۔۔ ہر طرف پتے بکھرے ہوئے تھے۔۔ کئی ننھے پودے اپنی جان ہار گئے تھے۔۔۔
املتاس اور گولڑ بھی اداس تھے ان کا سارا سنگھار اجڑ گیا تھا۔۔ مگر ماسی پر ایک جامد چپ تھی۔
وہ وجود جو کل رات اس کے گھر میں پایا گیا تھا، اس کی خاموشی جامد تھی، کسی طرح ٹوٹنے پر ہی نہیں آ رہی تھی اس کی چپ۔
"گاؤں والوں!” ماسی کے مخاطب کرنے پر سب اس کے سامنے متوجہ ہوئے۔
” کل رات جو کچھ میرے گھر میں ہوا، میں اس سے واقف نہیں تھی۔ اور جو بھی واقعہ تھا اس سے صرف یہ لڑکی اور اللہ رکھا واقف ہیں اور یہ دونوں بالکل خاموش ہیں۔ میں آپ سب کے سامنے اس لڑکی سے پھر سوال کروں گی۔۔۔ اور اگر میرا بیٹا گناہ گار ثابت ہوا تو انصاف بھی میں ہی کروں گی۔۔”
"اے لڑکی! تیرا نام کیا ہے۔”
لڑکی چپ۔
"تو یہاں کیسے آئی؟”
وہ بدستور چپ۔۔
"تیرے ساتھ زیادتی۔۔” یہ کہتے ہوئے ماسی کی آواز بھرا گئی۔۔ "کس نے کی ہے؟”
"کیا اللہ رکھا نے۔۔۔۔؟” ماسی کی آواز پرامید ہوئی کہ شاید وہ جھٹلا دے۔
مگر وہ لڑکی بدستور چپ۔۔
"کیا گونگی ہوگئی ہے؟ اگر ابھی نہیں بولے گی تو پھر میرا فیصلہ ماننا ہوگا۔۔”
چپ بدستور قائم تھی۔۔
"دیکھو گاؤں والوں۔۔ میں نے سب کے سامنے اس سے پوچھا ہے۔۔۔ اور اس کی چپ بتا رہی ہے کہ اس کا گناہ گار میرا بیٹا ہے۔۔۔”
یہ سنتے ہیں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ گاؤں کے سرپنچ نے کچھ کہنا چاہا۔ مگر ماسی نے اس کو ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔
” گناہ میرے گھر میں ہوا ہے تو انصاف بھی اسی گھر میں ہوگا۔۔ میں ان دونوں کا نکاح پڑھوانے کا فیصلہ دیتی ہوں۔”
اور پہلی بار یہ سن کر اس لڑکی کے وجود میں لرزش بیدار ہوئی۔
لاجونتی کو یقین آ گیا، بھگوان نے اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا مگر ماسی خدیجہ نے اس کے ساتھ انصاف کیا تھا۔

٭- – – ٭ – – – ٭

برسات کی ایسی لڑی آج سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔۔ آس پاس سارا ماحول شرابور تھا۔۔ شجر چپ چاپ سر جھکائے کھڑے موسم کی قہرناکی برداشت کر رہے تھے۔۔۔ گولڑ اور املتاس کے پیڑ ساتھ ساتھ تھے۔۔۔ ان کا ساتھ بچپن کا تھا۔۔ وہ ایک ہی آنگن میں پلے بڑھے تھے۔۔۔ ان کے دکھ سکھ سانجھے تھے۔۔۔ کبھی کبھی وہ سرگوشیوں میں اپنے احوال ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ لیا کرتے تھے۔ مگر آج وہ بھی چپ تھے۔۔ ننھے ننھے گولڑ لڑھک لڑھک کر نیچے گرتے جا رہے تھے مگر آج املتاس بھی اپنے سنگی ساتھی گولڑ کے درخت کا دکھ نہیں بانٹ پا رہا تھا، سر جھکائے چپ چاپ کھڑا تھا۔۔ خیر کی دعا مانگ رہا تھا۔۔ اچانک زور دار گرج کی آواز آئی۔۔ بادل ایسے تو کبھی نہ چنگھاڑے تھے۔۔۔ زمین سے آسمان تک بجلی لہرا رہی تھی۔۔ جانے کس کو تلاش رہی تھی۔۔۔ کچھ غلط ہوا تھا۔۔۔ املتاس اپنے آپ میں مزید سمٹ گیا اس کی دعا میں شدت آتی جا رہی تھی۔۔۔۔
” اے میرے پالن ہار، سب خیر رکھنا، سب کی خیر رکھنا، جس آنگن میں ہم پلے بڑھے اس کو امان میں رکھنا۔۔ ماں خدیجہ کی خیر ہو۔۔۔ آج سے پہلے تو تجھے اتنا غضبناک نہیں دیکھا۔ اے میرے مولا! ہمیں معاف کر دینا۔۔۔۔۔”
مگر شاید انہونی ہوگئی تھی اب سوائے سزا کے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔

٭- – – ٭ – – – ٭

"دیکھ فاطمہ! ماں کی طرح رکھا تجھ کو۔۔۔۔۔ بے شک مجھ سے کچھ غلطیاں ہوئی ہوں گی۔۔۔ مگر تو اپنی ماں کے ساتھ تو ایسا نہیں کرسکتی نا۔۔”
ماسی خدیجہ کے لہجے میں ایک آس تھی۔۔
"پھر۔۔ پھر تو نے اپنی ماں کو بےنام و نشاں کر دیا۔۔ اس کی نسل مٹا دی۔۔۔۔۔۔ ماں نے تو تیرے ساتھ انصاف کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔” اس نے اپنے آنسو اپنے اندر گراتے ہوئے کہا۔
"میری دھی ماں صدقے۔۔۔ آج تو کچھ بول۔۔۔۔۔ کچھ ہوا تھا تو ماں سے کہتی۔۔ کیا تجھ کو یقین نہیں تھا ماں پر۔۔۔۔”
وہ جب سے اس گھر میں آئی تھی ماسی خدیجہ کی برسوں کی دبی خواہش کہ ایک بیٹی ہوتی پوری ہوئی تھی۔ اس نے فاطمہ کا نکاح اللہ رکھا سے پڑھوانے کے بعد کبھی اس کو بہو نہیں ہمیشہ بیٹی سمجھا تھا۔۔ اس کے لاڈ نخرے سب بیٹیوں کی طرح اٹھائے تھے۔
"دیکھ مجھ سے غلطی ہوئی اللہ رکھا تیرے حساب سے نہیں تھا۔۔ مگر میں نے تو تجھ سے ہمیشہ صحیح سے برتاؤ کیا نا۔۔۔۔”
مگر لاجونتی یا موجودہ فاطمہ اس دن سے جو چپ ہوئی تھی تو پھر کبھی نہ بولی۔۔ اس نے چپ چاپ نکاح پڑھوا لیا اس کو معلوم تھا اب لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
"تو، تو نہیں بولے گی۔۔۔” خدیجہ پر ایک دم غصہ چڑھا تھا۔ اس نے فاطمہ کو ایک جھٹکے سے اٹھا کر لے جا کر اللہ رکھے کے قدموں میں ڈالا تھا۔
اللہ رکھا جو اپنے بیٹے کی لاش کے پاس بیٹھا بدحال اور غمگین بیٹھا تھا۔۔۔
"تو نے۔۔۔ تو نے روکا بھی نہیں اس کو اللہ رکھے۔۔۔۔ تیری نسل مٹ گئی اللہ رکھے۔۔۔۔۔ ہائے کیسا سوہنا جوان تھا میرا جواد۔۔۔۔۔۔” اب ماسی اپنے پوتے کو رو رہی تھی۔
اس پوتے کو جس کو اس کی ماں نے مار دیا تھا۔۔۔ ہاں فاطمہ نے آج اپنے ہی بیٹے کو مار دیا تھا۔۔۔ اور اس بات کا علم صرف اور صرف اللہ رکھے کو تھا کہ آج کیا ہوا ہے جیسے ٹھیک بیس سال پہلے علم تھا جب وہ دریدہ لاجو کو کھیتوں سے اٹھا کر لایا تھا۔۔ اس دن بھی ایسا ہی موسم تھا۔ ایسے ہی بادل گرج رہے تھے۔۔۔ اس دن بھی ایک بےگناہ سولی چڑھی اور آج۔۔۔ آج بھی یہی ہونے جا رہا تھا۔۔

فاطمہ نے یکدم اپنے پاؤں سمیٹے۔۔۔ اس کو شدید کراہت کا احساس ہوا اس کے بیٹے کا خون اس کے پاؤں تک بہہ کر آ گیا تھا۔۔۔ اس نے کراہت سے پاؤں سمیٹے تھے، اس کی چیخ بہت بےساختہ تھی۔۔
سالوں بعد اس کی آواز کسی نے سنی تھی۔۔۔ وہ چیخی تو ہذیانی طور پر چیختی چلی گئی۔۔ اس کے اندر شدید قسم کا ہیجان تھا۔
خدیجہ جو اب اللہ رکھے کے سینے سے لگی رو رہی تھی پریشان ہوگئی۔۔۔
"کیا ہوا ہے تجھے۔۔۔ ایسے کیوں چیخ رہی ہے۔۔ جو تو نے کر لیا یہ تو زندگی بھر کا رونا ہے۔۔” خدیجہ نے بیٹھی بیٹھی آواز میں کہا جو کہ مستقل رونے اور بین کرنے سے ایسی ہوگئی تھی۔
"ماں۔۔۔۔۔۔” فاطمہ کے منہ سے جو وہ ہمیشہ سننا چاہتی تھی وہ لفظ آج نکلا تھا مگر وہ اس سے بےزار تھی۔
"ایک تو نے انصاف کیا تھا۔۔۔۔ ایک انصاف میں نے کیا ہے؟” اس کی آواز باہر گرجتے بادلوں کی وجہ سے بمشکل خدیجہ کے کانوں تک پہنچی تھی۔
حیرانگی سے اس کی آنکھیں پھٹی رہ گئی تھیں۔
"یہ کیا کہہ رہی ہے دھی تو۔۔؟” وہ بےساختہ اس کے قریب کھسک آئی۔
اللہ رکھا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔ جو بات آج تک اس نے کسی کو نہیں بتائی تھی آج کھلنے لگی تھی۔۔ ہاں اس نے فاطمہ کے ساتھ کچھ برا نہیں کیا تھا۔ بس اس کو تحفظ دیا تھا وہ ذہنی طور پر تھوڑا کم سمجھ ضرور تھا مگر فہم سب رکھتا تھا۔۔ اس کو یہ بھی علم تھا کہ جواد اس کا خون نہیں۔۔ اور یہ بھی علم تھا کہ آج جواد وہی حرکت کرنے جا رہا تھا جیسی اس کے باپ نے اس کی ماں کے ساتھ کی تھی اور فاطمہ یہ سب برداشت نہ کرسکی اور ٹوکے کے وار کر کے جواد کو ختم کر دیا۔۔
ہاں مگر اللہ رکھے یہ نہیں جانتا تھا کہ فاطمہ، لاجونتی ہے۔۔
ادھر فاطمہ یا لاجوتنی مستقل دہرائے جا رہی تھی۔” ایک انصاف تو نے کیا تھا۔ ایک انصاف میں نے کیا ہے۔۔۔۔”
گولڑ اور املتاس جو اس واقعے کے گواہ تھے۔۔ وہ واقعی یقین لے آئے تھے۔۔ انصاف تو ہوا ہے۔۔۔

Advertisements

One thought on “ایک ادھوری کہانی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s