چھوڑنے کے بعد!!!!.


” مجھے چھوڑ دیا اس نے!” یہ جملہ بہت تکلیف دہ احساس جگاتا ہوگا نا؟ ان کے لیے بھی جن کو ایسے کسی حادثے سے گزرنا پڑتا ہو اور سننے والوں کے لیے بھی۔ سننے والے کتنے دن یاد رکھتے ہوں گے؟ اس لمحہ تک تاوقتکہ اس جیسا کچھ اور گھٹ جائے یا پھر وہ خود وقت کی بےرحم زد میں آجائیں۔
وقت بےرحم ہوتا ہے؟
اس جواب سے ہنوز لاعلم ہوں۔۔
کبھی "ہاں” اور کبھی "نہیں” یہ میرا جواب ہے۔ اس لیے لاعلمی کا اظہار کر دینا بہتر ہوگا۔
چھوڑنا اور بچھڑنا الگ باتیں ہیں۔
کوئی چھوڑ دے کوئی بات نہیں مگر خود سے نہیں بچھڑنا چاہیے۔ جو بھی لکھا کبھی اس میں خواتین کو لے کر گرے شیڈ بہت ہوتا ہے۔ وجہ جس کے آس پاس رہو اس کو ہی جان سکتے ہیں۔ مرد حضرات میری زندگی میں ہمیشہ بےحد پوزیٹو سائن رہے ہیں۔
ہاں تو بات چھوڑنے کی ہورہی تھی۔ جب کسی کو چھوڑ دیا جاتا ہو۔ جیسے؛
پاکستان بنے کچھ سال گزرے ہوں۔ ملک ہی کیا خاندان تک ٹھکانے پر نہ ہو اور یہ کہا جائے۔” تم چلو، ہم آ رہے ہیں۔” اور اس کو اپنی صرف تین ماہ کی بیٹی کے ساتھ سرحد پار دھکیل دیا جائے۔۔ ہاتھ میں تین ماہ کی بیٹی اور سر پر اعلٰی خاندان کی چادر۔ وہ چادر جو پیٹ نہیں بھرسکتی، سایہ نہیں بن سکتی،تن نہیں ڈھانپ سکتی۔
کیا سوچا ہوگا اس نے، اس بےخانماں برباد نے۔ دنیا ختم ہوگئی؟ خودکشی کر لینی چاہیے؟ اب کیا ہوگا؟

جیسے کسی نے یہ سنا ہو۔
” تم وارث پیدا کرنے کے قابل نہیں۔۔ بیٹیاں اٹھاؤ اور جاؤ یہاں سے۔۔” حکم تو جاری ہوگیا مگر حاکم کبھی یہ سوچتے ہیں کہ اس کو بجالانے والے پر کیا گزرتی ہوگی اور جب سوال صنف نازک کا ہو۔
مگر وہ کہاں جائے۔ کس سے کہے۔ بھائی کے گھر پڑ جائے، اس کے ٹکڑوں پر پلے۔ سو قسم کی بری بھلی سنے۔

جیسے کسی کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہو۔
وہ ہاسپٹل میں جلی ملی ہو۔ وجہ؟
” منحوس ہے۔ میرے بیٹے کی روزی کھا گئی۔” کوسنے والی بھی ایک عورت اور جلنے والی بھی ایک عورت۔

پہلی خاتون نے ہمت نہیں ہاری۔ 30 سال کی عمر میں اپنا کیریر شروع کیا۔میٹرک سے شروعات کی، نوکری کی، بےغیرتی کے طعنے سنے اور آج دنیا سلام کرتی ہے۔
دوسری خاتون ساری زندگی بس سر جھکائے اپنی بچیوں کے لیے سب کچھ سہتی رہی۔ اور کینسر جیسا مرض لیے اور بظاہر خوشدلی سے ہنستے ہنستے اس دنیا سے گئی۔
تیسری خاتون دوسری شادی کی ڈٹ کر فیصلہ کیا۔ کیوں؟ لوگوں کو نوکرانی کی ضرورت تھی بہن، خالہ، پھوپھی کی نہیں۔
اس سب میں عورت کہاں جائے؟
یہ چند ہمت والی خواتین تھیں جنہوں نے اپنے حصے کی جنگ لڑ لی۔ ان کے ساتھ برا کرنے والوں کے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہوا۔ مگر کیا ہم نے ان کے ساتھ اچھا کیا؟ ان کا ساتھ دیا؟ ان لوگوں کو کچھ کہا کبھی جو وجہ بربادی ٹھہرے؟
نہیں نااااااااااا۔
اس میں، میں آپ اور سب شامل ہیں۔ وہ بھی جو رہتے ایک چھت کے نیچے ہیں مگر ایک دوسرے سے بچھڑے ہوئے ہیں۔ شروع میں کہا تھا نا چھوڑنے اور بچھڑنے میں فرق ہے ایک چھت کے نیچے رہ کر بھی لوگ بچھڑ جاتے ہیں۔
شروعات ہمیشہ خود سے ہوتی ہے۔ پہلے تو اپنے آپ سے ملیے۔
پھر خاندان سے جڑنے کی کوشش کیجیے۔
اور پھر چھوڑ دیے جانے والوں اور خاص چھوڑ دی جانے والیوں کے زخم پر مرہم رکھیے۔

خدارا اپنی لڑکیوں کو ضرور کسی ہنر سے آراستہ کیجیے۔ ان کو اعتماد دیجیے۔ تیار کیجیے۔ شاید اس امتحان گاہ سے وہ بھی کامیابی سے نکل جائیں۔
شاید!!!!!!!!۔
ہم کو چھوڑنے کے بعد نہیں اس سے پہلے سوچنا ہوگا۔

Advertisements

4 thoughts on “چھوڑنے کے بعد!!!!.

  1. بہت اچھے موضؤع پہ کی بورڈ اٹھایا ہے آپ نے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم جو بیج بوتے ہیں وہ ہی کاٹتے ہیں۔ اور آپ نے بالکل ٹھیک کہا آج کل ہمیں واقع ضرورت ہے کہ اپنے آپ کو سنواریں معاشرہ خؤد با خود ہی سنور جائے گا۔

    1. بس آج کل ہر جگہ ایک ہی بات دیکھنے میں آتی ہے اور وہ یہ کہ تعلیم دے دی جاتی ہے مگر تربت کا فقدان ہے۔
      اسی لیے ساے بگاڑ پیدا ہورہے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s