مشتری خالہ ہوشیار باش

مشتری ہوشیار باش کئی اخباروں کے اشتہاری صفحوں پر دیکھتے اور پڑھتے آئے ہیں۔ مگر مشتری خالہ کی تشریف آوری کے ساتھ ہی پُروائیاں بھی مشتری خالہ ہوشیار باش کی صدائیں دیتی گزرتی ہیں اور یوں سب جان جاتے ہیں کہ مشتری خالہ آوے ہی آوے۔
بچپن سے جیسی تھیں ابھی تک ویسی کی ویسی ہی ہیں وہ۔۔ یہ ہم اپنے بچپن کا ذکر کر رہے ہیں۔ اماں کہتی ہیں مشتری کی قدر کرو۔ تمہارے پوتڑے اسی نے دھلائے ہیں۔ اور بیچ دالان میں ہمارے پوتڑے دھلنے شروع ہوجاتے ہیں۔ کسی آنا کانی کی نوبت ہی نہیں آتی۔
ہاں تو ہم بتا رہے تھے کہ وہ بچپن سے مطلب ہمارے چھٹپن سے ہی ایسی ہیں۔ یعنی وہی قدوقامت، وہی ناک نقشہ، قسم لے لیں جو رتی بھر اضافہ ہوا ہو۔ رتی کا اضافہ بھی خوب دکھتا ان کے اوپر۔ ہوں گی کوئی چار فٹ آٹھ انچ کے آس پاس۔ بال کبھی بہت حسین تھے اب ایک پونچھ سی لٹکتی دکھتی ہے اور مہندی لگانے کی وجہ سے علم ہوتا ہے کہ ماتھے کی حد کہاں ختم ہورہی ہے۔ ناک چڑھاتی ہیں تو پیشانی تک چڑھتی چلی جاتی ہے۔ ہنستی ہیں تو دائیں بائیں کان سے ملاپ کر کے ہی ہنسی واپس آتی ہے۔ اور ہنسی سے ہلکورے لیتے جھمکے۔ رنگت البتہ خوب چمپا کلی سی ہے۔ مگر دھوپ میں لگ کر سنولا گئی ہے۔
ان کے خصوصی شوق ہیں پیدل چلنا اور خوب چلنا، شاید اسی کارن وہ اتنی ہی رہیں جتنی کہ ہیں۔ کھانا اور دوسروں کا گننا۔
آپ سوچ رہے ہوں گے چہل قدمی کی شوقین ہیں نہیں بھئی بس پیسے بچانے کی لاکھ کہو خالہ رکشہ کر لینا، دھوپ میں پیدل مت چلنا۔ چلتے چلتے کرایہ پکڑا دو مگر وہ نوٹ ہتھیلی میں بھنچا پیسنہ میں بھیگا رہ جاتا ہے اس کے استعمال کی نوبت نہیں آتی۔
کام اور وہ بھی باہر کے خوب شوق سے کرتی ہیں ہم سب بچے انتظار کرتے تھے خالہ مشتری آئیں گی تو عیش ہوں گی۔ گول گپے بھی لا کر دیں گی۔ اور حنیف بھائی مشہور کی چاٹ بھی۔ اور اسٹاپ سے پکوڑے اور دہی بڑے۔
ایک دن خالہ کو کہا گیا کہ خالہ اسٹاپ سے دہی بڑے لے آئیں اور وہ بھی میٹھے والے۔ بیٹھے رہے یگ بیت گئے خالہ نہیں لوٹیں۔ تنگ آ کر سوچ رہے تھے کہ گھر سے کچھ دور ایک اور خالہ کا جو گھر ہیں کہیں وہاں تو نہیں پہنچ گئیں۔ یا پھر۔۔ مگر یا پھر سے پہلے وہ پہنچ گئیں۔ وجہ کیا ہوئی تھی اس قدر دیر سے لوٹنے کی۔
اسٹاپ پر دہی بڑے نہیں ملے تو چہل قدمی کا شوق پورا کرنے حیدرآباد کالونی تک چلی گئیں مگر دہی بڑے لا کر دیے اور وہ بھی میٹھے والے۔
ہیں نا خالہ مشتری کمال کی چیز۔ شام کے ناشتے کے دہی بڑے عشائیے میں پروسے گئے۔
ہاں تو ہم بتا رہے تھے کھانے کی بھی شوقین ہیں مگر دوسروں کا گنتی ہیں۔ سمجھ نہیں آتا زبان چلنے کی رفتار زیادہ ہے یا پھر ہاتھ چلنے کی۔ اور ہاتھ سے منہ تک کھانا پہچانے کا جو درمیانی وقفہ ہے اس میں پھرتی سے دوسروں کے کھانے کو گننا بھی ان کے کمالات میں شامل ہے۔
فلاں کے بچے ایسے کھاتے ہیں ایک وقت میں چار چار روٹیاں ٹھونستے ہیں اور ساتھ ہی ایک کیلا جو کہ اکیلا رہ گیا تھا اس کو نہیں بخشا گیا۔ فلاں کے یہاں ایک ایک بُرکی میں ایک ایک بوٹی لی جاتی ہے۔
فلانی بھابی کے بچے تو بےحد اجاڑو ہیں سارا فریج اجاڑ کر رکھ دیتے ہیں اور یہاں فروٹ کی ٹوکری اپنے اجڑنے پر نوحہ کناں ہے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے آئیں حسب معمول ہانپتی کانپتی لُو چل رہی تھی ٹھنڈا ونڈا کر کے پوچھا گیا خالہ کھانا تو لے لیں تو جواب آیا۔ ” اے لو کہاں کا کھانا۔۔ آج تو بس دو لقمہ روٹی کھائی ہے۔”
فرط جذبات سے ہم نے تازی بنائی دہی پھلکیاں ان کی خدمت میں پیش کر دیں روٹی بھی جھٹ پٹ بنا دی۔ واضح رہے کہ لُو شدید تھی۔ اور ہم از خود رفتہ ہمدردی میں شہید ہونے کو تھے۔
خالہ نے دانت نکوسے اور روٹیوں کے ساتھ گھر بھر کے لیے بنا دہی پھلکیوں کا پیالہ بھی ٹھکانہ لگا دیا۔ شام ہوئی تو ان کی بھوک عروج پر تھی یاد رکھیے گا کہ کھانے اور شام آنے کا درمیانی وقفہ کوئی پونے گھنٹے کا تھا۔
چنے چاٹ کے بعد کچھ ان کی دل پشوری ہوئی۔ پھر ان کا دل طاہری کھانے کو چاہنے لگا کہ دہی پھلکیوں سے وہی جمتی ہیں۔ خیر بعد مغرب جب انہوں نے طاہری سیر ہو کر کھالی تو اللہ کا شکر بجالایا کہ سارا دن میں اب کھانے کو ملا۔ الحمدللہ۔
خاندان میں کہیں بات پھیلانی ہو تو مشتری خالہ ہوشیار باش ہیں نا۔ اگر دھیان نہ رہے کہ وہ موجود ہیں اور کوئی اہم بات کر جاؤ۔ اور احساس ہونے پر کہ خطا ہوگئی ان کو کہو؛” خالہ یہ بات باہر نہیں نکلنی چاہیے۔”
” ہاں تو۔۔۔”
ہاں تو ان کا تکیہ کلام ہے جس میں سب بڑے آرام سے لپیٹ میں آجاتے ہیں۔
” ہاں تو اللہ کا شکر ہے۔ اپن کی عادت نہیں ادھر کی ادھر کرنے کی۔” اور نتیجہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔
بات ادھر ادھر ہی نہیں چاروں اطراف اور وہ بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر پہنچ جاتی ہے۔
خالہ کے جھمکے بھی بہت مشہور ہیں۔ لوگ ادھار لے لے کر پہنتے ہیں۔ کوئی ایک جھمکہ تھوڑی ہے جھمکوں کی جوڑیاں ہیں۔ اور وہ بھی ڈھیروں ڈھیر۔
اماں کہتی ہیں کہ:” مشتری کچھ عمر کا لحاظ رکھا کرو، کیا بےلگام گھوڑی بنی رہتی ہو۔” مگر مشتری خالہ میں نہ مانو کی مصداق کچھ نہ کچھ کانوں میں لٹکائے پھرتی ہیں۔
دھوپ میں نکلتے وقت ان کا ایک مخصوص سا بڑا چشمہ ہے جو آدھا چہرہ ڈھک لیتا ہے۔ اچھا ہی ہوتا کہ ڈھک جاتا ہے۔ مگر رہی سہی کسر ان کے لال لپ اسٹک پوری کر دیتی ہے۔
ایک دفعہ کا قصہ ہے کہ مشتری خالہ کے ساتھ کہیں جانا تھا اور سفر بھی بس کا تھا۔ اس دن کی بےبسی آج تک پیچھا نہیں چھوڑتی۔
طے یہ ہوا کہ اسٹاپ پر ہی سب جمع ہوجائیں گے آسانی رہے گی۔ سب بس اسٹاپ پر پہنچ گئے اور مشتری خالہ غائب۔ ایک ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کیا۔ ان دنوں سیل فون نہیں ہوتے تھے۔ خیر ایک بندہ پتا کرنے گیا کہ آخر کہاں رہ گئیں۔ علم ہوا ایک دوسرے اسٹاپ کی طرف گئیں۔ سب نے اسٹاپ سے رکشہ پکڑا اور دوسرے اسٹاپ کی طرف چل پڑے کہ چلوں وہیں سے بس پکڑ لیں گے۔ اور کیا خبر مشتری خالہ راستے میں کہیں واپس آتی دکھ جائیں۔ مگر نہ جی ہوا کچھ گمان سے کوسوں پرے۔
مشتری خالہ پہنچی تو طے شدہ اسٹاپ تک مگر گھوم کر ایک اور راستے سے جو کسی کے وہم و گمان تک میں نہیں تھا۔
افففففففف ہائے اس دن کی خواری۔
دروازے پر کھٹ کھٹ ہوئی ہے۔ شاید وہی ہوں۔
اگلے کسی قصے کے وجود میں آنے تک کے لیے وداع لیتے ہیں۔
مگر ساتھ ہی مشتری خالہ ہوشیار باش کا نعرہ ذہن میں صدائیں لگا رہا ہے۔

Advertisements

One thought on “مشتری خالہ ہوشیار باش

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s