” سوری ماں!!!!۔۔۔۔”

سارے آئینے توڑ ڈالو، ان کی کرچیاں جلا ڈالو، تب تم کو کوئی آسیب تنگ نہیں کرے گا۔۔” اُس کا ہاتھ آئینے پر پڑی دھند تیزی سے صاف کر رہا تھا۔ وہ تیز تیز ہاتھ چلا کر ہلکان ہو رہی تھی مگر دھند دبیز ہوتی جا رہی تھی۔ وحشت اس کی آنکھوں سے چھلک رہی تھی، نتھنے چڑھتی سانس کے کارن پھول پچک رہے تھے مگر وہ اپنے کام میں مگن تھی۔۔ بال پسینے سے بھیگ کر ماتھے پر چپک گئے تھے۔ مگر وہ ہنوز اپنے کام میں لگی تھی آئینہ چمکانے کی کوشش میں۔۔ وہ تھوڑی دیر رکتی، غور کرتی مگر آئینہ ہنوز دھندلا تھا۔ وہ پھر اپنے کام پر لگ گئی۔ مزید دس منٹ کی کوشش کے بعد وہ آئینہ کو ذرا سا صاف کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس میں اب اس کی دھندلی شبہیہ دکھنے لگی تھی۔ اس نے سکون کا سانس لے کر اپنا ماتھا آئینہ سے ٹکا دیا۔
اس کی بیٹی کمرے میں داخل ہوئی اور اپنی ماں کو آئینہ صاف کرتے دیکھ حیران ہوئی۔
” یہ مام کو کیا ہوا ہے۔۔۔ صاف آئینہ کو صاف کر رہی ہیں۔۔” اس نے کچھ کہنا چاہا مگر ماں جس حالت میں تھی اس نے اسی حال میں چھوڑ دیا۔ آخر کو اس کو اور بھی کام تھے۔۔ نئی نسل کے پاس کرنے کو بہت کام اور وقت بہت کم ہے۔ اس نے شانے اچکائے تو کمرے سے باہر نکل گئی۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
اس نے پیشانی آئینے سے ہٹائی تو اس کو پھر آئینہ دھندلا دکھا اور وہ پھر سے اس کی صفائی میں جُت گئی۔ اس کو دھند کے سوا کچھ دکھتا بھی تو کیسے؟ آئینے بےچارے کا کیا قصور وہ تو وہی دکھاتا ہے جو آنکھ میں عکس بنے اور جو آنکھ دیکھنے کے ہنر سے قاصر ہو اس کو آئینہ کیا دکھائے کیا سُجھائے۔

” روٹی بناتے وقت سارے پیڑے ایک ساتھ بنا لیا کرو اس سے آسانی ہوتی ہے۔” اس کے کانوں میں آواز کی لہر گونجی۔

” فرائینگ پین کا ہینڈل ایک سائیڈ پر کر لیا کرو اس سے آستین اٹکنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔” آواز میں جیسے فکر گھلی ہوئی تھی۔
"کچھ بھی اگر گر جائے تو ہاتھ کے ہاتھ صفائی کر لو آسانی ہوتی ہے۔۔” چائے پیالیوں میں ڈالتے وقت اس سے ہمیشہ گرتی تھی اور وہ اس کو صاف کیے بغیر چھوڑ دیتی تھی۔ اور بعد میں صاف کرنے پر دھبے نہیں جاتے تھے۔
” مجھے روٹی بنانی بھی آتی ہے۔ اور آپ سے اچھی بناتی ہوں۔ فرائینگ پین کا ہینڈل سائیڈ ہی میں ہے اور چائے جو گری ہے وہ بھی صاف کر لی ہے۔۔ آخر آپ یہ کیوں نہیں سمجھ پاتیں کہ میں اب بڑی ہوگئی ہوں اور آپ سے بہتر کام کرتی ہوں۔ مگر تھوڑا چلوں بھی تو آپ کے حکم سے، رکوں بھی تو آپ کے اذن سے۔ آخر آپ میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی ہیں۔۔” اس کا لہجہ بہت ترش تھا۔
” یہ برتن ساتھ کھنگال کر ہی آنا۔” کہنے والی نے جیسے سنا ہی نہیں تھا۔۔ اور پلٹ گئی۔
” زندگی عذاب کردی ہے میری اس عورت نے۔۔۔ ہر وقت میرے پیچھے پڑی رہتی ہے۔ یہ کرو، وہ کرو، یوں کرو اور یوں نہیں۔۔۔” وہ پٹخ پٹخ کر برتن کھنگال رہی تھی۔

برتن ریک میں جما کر مڑی ہی تھی کہ اپنے پیچھے دیکھ کر چڑ گئی۔
” اب کیا ہے؟ اور کوئی کام مت کہیے گا۔۔ میں تھک جاتی ہوں سارا دن یہ کام کر کر کے۔”
مگر اس نے تو جیسے سنا ہی نہیں تھا۔
” ماچس کی ڈبیا نکال کر رکھ دینا تاکہ لائٹ جائے تو آسانی سے مل جائے۔ پانی بھر لینا۔ اور ہاں چائے اور چینی بھی پیکٹ سے برنیوں میں ڈال رکھنا صبح مجھے مصیبت ہوتی ہے۔” حسب معمول لہجہ بےنیازانہ تھا۔ اور وہ جو کچھ بھی کہہ رہی تھی اس کے کانوں تک پہنچا ہی نہیں تھا۔
” آج آنے دو بابا کو ان سے پوچھوں گی یہ سوتیلی تو نہیں۔” آنکھوں میں آنسو تو آج کل منٹ منٹ میں آتے تھے۔
” اب خود کہاں چل دیں۔۔” چبا کر اس سے پوچھا۔
” کچھ لوگ شام کو تم کو دیکھنے آ رہے ہیں اس کا انتظام کرنے۔” اور اس کو لگنے والے شاک سے قطع نظر وہ باہر جاچکی تھی۔
اور اس کو پکا یقین ہوچکا تھا کہ یہ سوتیلی ہی ہے۔ اس کو سکون سے جینے نہیں دیتی ایک پل کے لیے بھی نہیں۔
رات کو بستر پر جب اپنے تئیں تھک ہار کر لیٹی تو وہ پھر سے آگئی۔
” ساری کھڑکیاں اور دروازے چیک کیے تھے؟ اگر نہیں تو چیک کر لو۔ پرسوں بھی برآمدے والی کھڑکی کھلی رہ گئی تھی۔”
وہ مندی مندی آنکھوں سے سنتے ہوئے بستر پر ڈھے گئی۔ اور مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق چیک کرنے چل دی۔ اور واقعی آج بھی برآمدے والی کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔
” جب علم تھا تو خود نے بند کیوں نہیں کردی۔۔ اچھا ہے میری جان چھٹے۔ شادی اور پھر سب کام اس کو خود ہی کرنا پڑے۔” آج شام آئے ہوئے پیغام سے وہ ازحد مطمئن سی ہوگئی۔ دن والا ملال بھی جاتا رہا۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

” مام! پلیز اب پیچھے مت پڑ جائیے گا۔” اس کی نوعمر بیٹی نے بیزاری سے کہا۔
” یہ سب جو آپ اتنی محنت سی بناتی ہیں۔ وائے؟” اس نے لاپروا انداز میں شانے اچکائے۔
” یہ سب تو بازار میں بھی ملتا ہے۔۔ اور یہ عام معمولی کام، یہ ڈش واشنگ یہ سب میرے بس کا نہیں اس دن بھی آپ کی مدد سے خیال سے برتن دھولیے تھے تو مجھے الرجی ہوگئی تھی۔ یہ دیکھیے ریشز ابھی تک موجود ہیں۔”
یہ کہہ کر وہ جینز جھاڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی صوفے پر مونگ پھلی کے چھلکے پھیل گئے۔ ” اور ہاں پلیز یہ سب صاف کروا دیجیے گا۔ اور پلیز میری وارڈروب آپ خود سیٹ کیجیے گا۔ ماسی کچھ بھی ٹھیک سے نہیں کرتی ہے۔” اور باہر سے آتے باپ کے کندھے سے جھول گئی۔ جس کی نظر میں اس کی چودہ سالہ بیٹی ابھی کام کے لیے چھوٹی تھی۔ اس کو آرڈر نہیں تھا کہ وہ اس سے کوئی کام کروا سکے۔
اس نے اپنے سجے ہوئے گھر کو دیکھا جس میں اس کا سلیقہ شامل تھا، جب لوگ اس کے گارڈن کی تعریف کرتے تو سر فخر سے بلند ہو ہو جاتا۔
” یہ میں نے سیٹ کروایا۔”
اس کی آرگنائز کی گئی پارٹیز کی واہ واہ ہوتی۔
” سلیقہ تو آپ پر ختم، جذیات کا خوب خیال رکھتی ہیں۔”
میاں اس کا شکرگزار رہتا کہ تم نے زندگی بنا دی اندھیرے میں بھی کچھ ڈھونڈو تو چیز جگہ پر موجود ہوتی اور اس کی گردن فخر سے اکڑ جاتی۔ آخر میں کامیاب ہوئی۔ یہ میری سلطنت ہے۔ اس کے چہرے پر غرور سجتا بھی تھا۔
” مگر یہ اس کی بیٹی کیا کہہ گئی۔۔۔ ایسے بھلا کوئی ماں سے بات کرتا ہے، ایسا ایسا لہجہ۔۔۔۔” اس کی آنکھیں دھندلائیں۔ اچانک اس کی نظر لاؤنج میں لگے وال مرر پر پڑی۔ اس کو کچھ دھندلا سا دکھائی دیا۔ اس کے گھر میں ایسی بدسلیقگی۔ اس سے برداشت نہیں ہوا۔ وہ فوراً چیک کرنے قریب پہنچی۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔٭
” آخر میں نے کر لیا صاف۔۔۔۔۔۔” اس نے سکون کی سانس لی۔ اب کچھ کچھ منظر صاف تھا آئینے میں اس کی شبیہہ ابھر رہی تھی۔ لیکن نہیں یہ شبہیہ اس کی تھی؟ اس نے ایک بار پھر رگڑا۔
” ہاں اب کچھ اور واضح ہوا ہے اس نے تھوڑا قریب ہو کر غور کیا، میں ہی ہوں۔۔۔۔۔۔ نن نہیں۔۔۔۔ یہ میں تو نہیں۔۔۔ پھر؟ پھر۔۔۔۔۔۔” وہ اس شبیہہ کو پہچاننے کی کوشش میں آئینے سے اور قریب ہوگئی۔ آنکھ سے آنکھ ملائی۔ اور پھر اچانک وہ اس کو پہچان گئی۔
وہ پھوٹ کر پھوٹ کر رو دی۔ کبھی اس کی ماں کی آواز اس کے کانوں میں گونجتی اور کبھی اس کی بیٹی بازگشت سنائی دیتی۔
آدھا چہرہ اس کا تھا اور آدھا اس کی ماں کا۔۔۔
وہ جو دیکھ رہی تھی اس کے گمان سے بڑھ کر سچ تھا۔۔ پھر اس کے لبوں سے ایک سرگوشی سی سنائی دی جو کہ کان تک بمشکل پہنچ سکی۔
” سوری ماں!!!!۔۔۔۔”

٭—٭—٭
ختم شد

Advertisements

One thought on “” سوری ماں!!!!۔۔۔۔”

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s