سیڑھیاں


سیڑھیاں

بس کچھ ایسا ہی موسم تھا۔۔۔۔۔ جیسے کہ آج کل ہے۔۔۔کبھی شمالی سمت تو کبھی جنوبی سمت سے چلتی ہوا، تند و تیز ہوا۔۔۔ ہاں ساتھ باریک سی بارش بھی تو ہے۔۔۔۔۔۔ ایسی باریک بارش کم ہوتی ہے مگر جب ہوتی ہے تو ہوتی چلی جاتی ہے، اور آپ دھیرے سے بھیگتے چلے جاتے ہیں۔۔ علم تک نہیں ہوتا۔۔۔ جمعرات کی جھڑی کبھی پورا ہفتہ ساتھ دیتی تھی، مگر تھی اب تو بس پل دو پل کا ساتھ ہوتا ہے۔۔ دور تک پھسلتی نگاہ بتلاتی ہے کہ کھمبوں پہ لگے برقی بلب بھی بھیگے بھیگے سے ہیں۔ کبھی ان کھمبوں کی جگہ طاق ہوا کرتے تھے جہاں سر شام دیے رکھ دیے جاتے، بارش پڑنے پہ ان کی روشنی بھی ایسے ہی ماند ہوتی۔۔ جیسے نگاہ دھندلا جاتی ہے۔۔۔ چاہے پیری ہو یا بارش سامنے کے منظر واضح نہیں ہو پاتے۔۔

پتھروں سے بنی سیڑھیوں پہ زرد رنگ چونے میں ملا کر پھیرا گیا تھا۔ کہیں رنگ جذب ہوگیا تھا اور کہیں سے بہہ گیا تھا۔۔ جگہ ویسی کی ویسی تھی۔ کچھ لوگوں کی طرح، جو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کچھ سنگلاخ چوٹیوں جیسے جن پہ کچھ نہیں ٹھہرتا۔۔

مسلسل برکھا برسنے سے سیڑھیوں میں موجود درزوں میں ننھی کونپلوں نے سر اُٹھایا تھا۔۔ ویسے تو سب کو جینے کا حق ہوتا ہے۔۔۔ بیج پڑتے ہی یہ حق ہر جاندار کو حاصل ہو جاتا ہے، مگر کچھ سے نویلی کونپلوں کی طرح یہ چھین لیا جاتا ہے۔ جیسے کہ اس وقت سہیل بیٹھا کر رہا تھا۔۔ وہ اضطراب میں ان کونپلوں کو نوچے جا رہا تھا یہ جانے بغیر وہ جینے کا حق کسی سے چھین رہا ہے۔

” کیا ہوا جگر؟” بابو نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سوال کیا۔
” کچھ نہیں۔۔”
” کچھ تو ہوا ہے؟” بابو مسکرایا۔
” کچھ بھی نہیں ہوا۔ بولا ناااااا۔۔” سہیل آزردہ لہجے میں بولا۔
” اچھا! چل جیسے تیری مرضی۔۔ ہم تو یاروں کے یار ہیں۔۔۔ اب فٹافٹ اُٹھ۔۔۔ اسکول کا ٹائم ہوتا ہی ہوگا۔۔ بچیاں ہی بچیاں۔۔۔۔ واہ رہ قسمت۔۔۔” بابو نے لطف لیا۔
” ویسے لال رنگ خوب کھلتا ہے تجھ پہ۔۔ وہ بڑی بڑی آنکھوں والی نازیہ تجھے ہی دیکھتی رہتی ہے۔” بابو نے بےنیازانہ انداز میں ماچس کی تیلی سے دانتوں میں خلال کرتے ہوئے گویا چنگاری سلگائی۔۔ سہیل چونک گیا۔ بابو نے انجانے میں اس کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ دیا تھا۔
” ویسے کچھ بھی ہو بچی ایک دم سیٹ ہے۔۔”
” مگر۔۔۔۔۔” سہیل کے دل کو راہ مل گئی۔
” وہی نا جگر! اگر۔۔ مگر چھوڑ، حکم کر۔”
” مسلک کا مسئلہ۔۔۔۔۔” سہیل منمنایا۔
” اوئے ہوئے۔۔۔۔ بات یہاں تک پہنچ گئی۔۔” بابو نے سہیل کو ایک دھپ رسید کرتے ہوئے کہا۔ ” چل کچھ کرتے ہیں پھر۔ آخر کو جگر کا کام ہے۔۔ اور ہم تو ویسے بھی یاروں پہ جان دینے والے ہیں۔۔” تیلی بدستور اس کے دانتوں کے درمیان پھنسی گھوم رہی تھی۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
پھر ایک دن خبر گونجی اور محلے کی دیواروں میں دراڑ ڈال گئی۔ جہاں سب کچھ سانجھا تھا، رونق رہتی تھی، آتے جاتے خبر گیری کی جاتی اب وہاں کے لوگ ایک دوجے سے منہ چھپائے پھر رہے تھے۔ سانحہ ہی ایسا تھا۔
نازیہ بھاگ گئی تھی۔ کہاں گئی؟ کدھر گئی؟ کسی کو کچھ خبر نہیں ہوئی۔ جب پہرے دار ہی رہزن نکلیں تو اونچی دیواروں میں سیندھ لگ جاتی ہے۔ جانتی تھیں تو صرف سیڑھیاں، جدھر رات بیٹھ کر ساری منصوبہ بندی ہوئی۔
چند روز خاموشی رہی پھر ماحول معمول پہ آنے لگا۔۔ ایسے ہی ایک عام سے دن نازیہ لوٹ آئی۔۔۔ سہیل کی دلہن کے روپ میں۔۔ سیڑھیوں پہ بھی آج رونق لگی ہوئی تھی۔

” کیوں جگر؟ آئے نا آخر اپنے ڈی ایس پی انکل کام۔۔۔؟” سہیل شرمایا بیٹھا تھا۔
” مگر ایک بات ہے۔۔” بابو چونکا۔۔۔ ” ابے طے تو یہ ہوا تھا کہ سامنے اس وقت آئیں گے نکاح کے بعد جب بچہ ہو۔۔۔ مگر ایں سالے اتنی جلدی۔۔۔۔۔”
” جانے دو نا بابو بھائی!” سہیل ادھر ادھر دیکھ کر بولا۔۔۔ ” بچے بھی بیٹھے ہیں۔۔۔”
” ارے! ان کو ہی تو یہاں کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے۔۔”
” یہ بتاؤ! نازیہ کا باپ راضی ہوا؟”
” ہاں! کہہ رہے ہیں چار لوگ لے آئیں رخصتی کردیں گے۔۔”
” ارے جگر! جن کا مسلک محبت ہو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔۔۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
قصہ تمام؟۔۔۔ گزرا ہوا زمانہ ہوگیا ہے؟
کیا زمانہ سچ میں گزرتا ہے یا ہم اس میں سے گزر جاتے ہیں۔ ہر گذری ساعت نقش چھوڑ جاتی ہے ہر سنگ ریزے کے نیچے ایک کہانی ہوتی ہے۔ بیس سالہ بابو اب پینتیس سال کا ہے اور اب جگت بابو بھائی کہلاتا ہے۔۔ سہیل لوگ کہیں اور شفٹ ہوچکے ہیں۔۔۔ دو بچے ہیں خیر سے ان کے۔۔۔۔ لاڈو میں پلے سہیل بھلا کیا کمائیں گے ان کو اپنے ابا کی باہر کی کمائی پر پلنے کی عادت تھی اب یہ کام بیوی سرانجام دیتی ہے۔ سہیل بچوں اور بیوی کو اسکول لیتے چھوڑتے ہیں۔
اور درمیانی وقفہ؟ انہیں سیڑھیوں پہ گزرتا ہے، جو کہ اب ایک دومنزلہ عمارت کا حصہ ہیں، ان پہ موزیک ہوچکا ہے۔۔۔ پورے علاقے نے ہی ترقی کی ہے۔ پہلے جہاں کوارٹر ہوا کرتے تھے۔ برگد کے پیڑوں پر گلہریاں پھدکتی پھرتی تھی، آم کی شاخوں پہ کوئلیں کوکتی تھیں، اب کئی منزلہ عمارتوں میں منقسم ہوگئی ہیں۔۔ خوشحالی بھی ہے۔۔۔۔ سنا ہے خوشحالی کے ساتھ عیاشی جڑی ہے۔
یقین نہیں آتا نا؟ آنا بھی نہیں چاہیے۔۔۔ جہاں پہلے چائے کے کب دھرے ہوتے تھے۔ حلوہ پوری بیٹھ کر کھائی جاتی تھی۔۔۔۔۔۔ اب؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیسی ٹھرے اور کبھی کبھار ولایتی بوتلیں بھی لڑھک رہی ہوتی ہیں۔
پہلے والدین پوچھتے تھے۔۔۔۔ کہاں اور کدھر جا رہے ہو؟ اب کہتے ہیں۔۔ جلدی گھر آ جانا۔۔۔ مائیں، باپوں سے چھپاتی ہیں۔۔۔ کہیں ان کو کچھ خبر نہ ہوجائے۔۔۔۔ اور لاعلم باپ چھت پر کبوتر اڑاتے پھرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ وہ اپنا کام کرچکے ہیں۔۔ اب ان کو کیا لینا دینا۔۔
ان میں ایک ہی رضو بھی ہے۔۔ اس کو سیڑھیوں کی لت لگے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے کم عمر بھی ہے یہی کوئی اٹھارہ سال کا۔
” رضو! جلدی گھر آنا۔۔۔ نہیں تو تمہارے باپ کو بتا دوں گی۔۔ تم رات کو گھر دیر سے آتے ہو۔۔” آواز میں دھمکی شامل تھی۔
شام چھ بجے ناشتے کے انتظار میں بیٹھے رضو کا موڈ آف ہو گیا۔
” مجھ سے زیادہ بک بک نہیں کیا کر۔۔۔ جلدی ناشتا لا کر دے۔۔ مجھے جانا بھی ہے۔۔۔ اور ہاں باہر سے تالا ڈلوا دیجیو۔۔۔ خود ہی آ کر کھول لوں گا۔۔۔ اور زیادہ ٹرٹر کر کے میرا دماغ مت چاٹیو۔۔ ویسے ہی بھاری ہو رہا ہے۔۔”
ناشتا کرنے کے بعد رضو نے 6600 اٹھایا 125 کی چابی پکڑی اور سیڑھیوں پہ آکر سانس لی۔
” یہاں ہوا کتنی اچھی چلتی ہے۔۔۔ تبھی تو سالی اتنی جلدی چڑھ جاتی ہے۔۔۔”
” کیا حال ہیں جگر؟” بابو بھائی کی گولائی تھوڑی سی اور بڑھ گئی تھی۔۔۔ تھوڑے سے سر کے بال بھی کم ہوگئے تھے۔ مگر حلیہ وہی تھا۔۔۔ گھسی جینز اور ٹی شرٹ۔۔
” کچھ نہیں بابو بھائی! تم سناؤ کن ہواؤں میں ہو آج کل۔۔ روز نکڑ والی بلڈنگ پہ پہرہ دیتے ہو۔۔”
بابو بھائی زندگی میں پہلی بار شرمائے۔۔۔
” یار! ایک مشورہ لینا تھا تجھ سے۔۔۔”
” کہو بابو بھائی۔” رضو کا انداز بےنیازانہ ہوا۔
” شنو یا رانو؟ کس سے سیٹنگ کروں؟”
” ہیں۔۔۔۔؟” رضو کی آنکھیں تھوڑی اور کھل گئیں۔۔ ” ابے کیا کہہ رہے ہو بابو بھائی! دونوں بہنیں ہیں۔۔”
رضو کی آنکھوں میں کس کر چوٹی باندھے، کھنچے ہوئے ماتھے اور آنکھوں میں ڈھیروں کاجل لگانے والی شنو، رانو آگئیں۔۔۔ وہ کبیدہ خاطر ہوا۔۔ اس کو ان لڑکیوں سے چڑ سی تھی۔ اس کا پیار تو بس نت نئے موبائل فون تھے۔۔۔ جن سے اس کی ٹور بنی رہتی تھی۔
” یہ دیکھ!۔” بابو نے ایک کارڈ دکھایا۔۔ جس پہ دو کبوتر بنے تھے جو ایک ہی دل پہ بیٹھے تھے۔۔۔ نیچے لکھا ہوا تھا۔
” ڈبے پہ ڈبہ، ڈبے میں کیک
میرے بابو بھائی لاکھوں میں ایک”

نیچے بڑا بڑا رانو کا نام جمگمگا رہا تھا۔
” اور یہ۔۔۔۔۔ یہ بھی دیکھ۔۔۔” اب کے بابو نے خوشبوؤں میں بسا ایک رقعہ دکھایا۔ ہلکے گلابی رنگ کے پرچے پہ لکھا ہوا تھا۔۔

” پیارے بابو بھائی!
یہ شنو نے جب سے چاہا ہے آپ کو ہی چاہا ہے۔
آپ ہی اس کی آنکھوں کا حسین خواب ہیں۔۔
میں انک لینے کے بہانے آؤں گی۔ ویسے تو اماں
آنے نہیں دیتیں۔۔ آپ میرا انتظار کرنا۔۔۔
نینوں میں سپنا، سپنوں میں سجنا، سجنا پہ دل آ گیا۔۔

خط کے چاروں طرف مختلف قسم کے رومانٹک گانے لکھے ہوئے تھے۔۔۔
رضو لفظ ” بھائی” پہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگیا۔۔
” ابے تمہیں کتنا ذلیل کیا ہے بابو بھائی!” اس کی ہنسی نہیں تھم رہی تھی۔
” بھائی!” یہ کہہ کر وہ پھر سے ہنسنے لگا۔
” بھابی نے پڑھ لیا یہ تو؟” اس کی آنکھیں اب زیادہ ہنسنے کی وجہ سے نم تھیں۔۔
” ہمارے یہاں کی عورتیں باہر نہیں نکلتیں۔۔ اور ویسے بھی میں جگت بھائی ہوں۔۔ لکھ دیا ہوگا۔۔۔ ابھی بچیاں ہی تو ہیں۔۔۔۔ بس تو یہ بتا!! بڑی یا چھوٹی۔۔؟” ان کی آنکھوں میں یکدم اشتیاق امنڈ آیا۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
” ہٹ جا بھئی ہٹ جا! چل راستہ دے۔۔ فیملی ہے۔۔۔”
مکان میں آئے نئے کرایہ داروں کی فیملی کی کچھ خواتین نے سیڑھیوں پہ سے گزرنا چاہا تو بابو بھائی نے آواز لگائی۔ سہیل بھی وہیں آنکھ ٹکائے کھڑا تھا۔۔۔ بیوی بچوں کو اسکول چھوڑ کر وہ واپس سیڑھیوں پہ پہنچ چکا تھا۔۔
پٹھان چینک رکھ کر ابھی گیا تھا۔۔۔۔۔۔بابو بھائی بھی اسکول کی بچیوں کو اسکول پہنچا کر لوٹے تھے۔۔۔۔ کہ ان کے واسطے اٹھ کر راستہ دینا پڑا جو شاید کالج ہی جا رہی تھیں۔
” یار لڑکیاں شریف دکھتی ہیں۔”
” سو تو ہے۔۔ مگر اپن کا کام تو ٹرائی کرنا ہے۔۔۔۔ ٹرائی این ٹرائی اگین۔۔” بابو بھائی نے آنکھ میچی۔ سہیل بھی اب گزرتی زندگی میں اس بات کا قائل ہوچکا تھا کہ محبت بار بار بھی ہوسکتی ہے اور روز روز بھی۔
یہ بات اوپر سے اترتے ان لڑکیوں کی بھائی نے سن لی۔۔۔
” یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا؟ ہم نے تو سنا تھا کہ شریفوں کا محلہ ہے۔۔”
” ارے جگر! کیا ہوگیا؟۔۔۔۔۔ کسی نے کچھ کہا کیا؟۔۔ ارے تمہارے بہنیں ہماری بہنیں۔۔” بابو بھائی نے اس کے کندھے میں ہاتھ ڈال کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
لڑکا ڈھٹائی کے عظیم مظاہرے پر آپ شرمندہ ہوگیا۔۔۔ اگر اپنے کانوں سے نہیں سنا ہوتا کہ یہی شخص ابھی اس کی بہنوں کو کیسے کہہ رہا ہے تو یقین نہیں کرتا۔
اس نے اِدھر اُدھر پانچ دس لڑکے بیٹھے دیکھے۔۔ پھر آہستہ سے کہا۔ ” آپ لوگ ادھر مت بیٹھا کریں۔ یہ ہمارا آنے جانے کا راستہ ہے۔۔”
” ہم تو یہاں برسوں سے بیٹھتے آرہے ہیں۔۔ کبھی کسی نے شکایت نہیں کی۔۔۔۔ نہیں کی ناااا؟” سہیل نے اِدھر اُدھر دیکھ کر سب کی رائے لی۔
سارے لڑکے ایک ساتھ سہیل سے متفق ہوئے۔ وہ لڑکا بےبسی سے گھر لوٹ گیا۔
” آئے بڑے ہم سے ہماری سیڑھیاں چھیننے والے۔۔” سہیل بڑبڑایا۔
” ارے جگر! کسی کا باپ نہیں چھین سکتا۔” بابو کا لہجہ پرسوچ ہوا۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭ْ
” یہ دو دن سے سیڑھیوں پہ کون بیٹھ رہا ہے؟”
” ہاں واقعی! یہ وہی تو نہیں؟”
” ہاں ہاں وہی ہے۔۔۔۔۔۔۔”
” پہلے تو چلو محلے کے بچے بیٹھتے تھے مگر اب یہ؟”
” اب یہ محلہ رہنے کے قابل نہیں رہا۔۔۔۔ کیسے کیسے آنے لگے ہیں۔۔
لوگ یہ سب کچھ سوچ سکتے تھے مگر کہہ نہیں سکتے تھے۔ وہ وقت اب نہیں رہا تھا جب کسی کو کسی بات پر کہا جاسکتا تھا اب تو بس چپ رہنے میں عافیت ہوتی ہے۔
ہاں وہ روفی تھا۔۔۔۔ علاقے کے کرتا دھرتا ۔۔۔۔۔۔ کا چھوٹا بیٹا۔۔۔۔ بابو نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔۔۔۔۔ جب سے اوپر والوں نے اس کے باپ سے کہا تھا کہ سیڑھیاں صاف کروائیے ہماری گزرگاہ ہے۔۔۔ اور اس کے باپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کچھ کرے گا۔
” پٹھان! سب کے لیے چینک لانا اور ہاں میٹھا ڈبل اور ایک دم کڑک۔۔۔”
پٹھان دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔
” پیسہ ام مانگ نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔ پہلے ادھر بیٹھنے والا چائے کا پیسہ دیا کرتا تھا اب تو مفت خور بیٹھا ہے۔۔۔۔ لوس ای لوس ام کو۔۔۔۔” پٹھان بڑبڑاتا چلا گیا۔
شام میں کئی لڑکے سیڑھیوں پہ بیٹھا کرتے تھے۔۔۔ جو شریف تھے اب ان کی آمدورفت گھٹ گئی تھی۔۔ ہاں رضو کی مگر بڑھ گئی تھی۔۔۔ نت نئے موبائل فونز کا شوق بھی پورا ہو رہا تھا۔۔۔ گلے میں سونے کی ایک موٹی سی چین بھی آ گئی تھی۔۔۔۔۔کپڑے پہننے کا ڈھنگ تو پہلے بھی تھا اب مزید ہینڈسم لگنے لگا تھا۔۔
لمبے چوڑے رضو کے آگے۔۔۔۔ گھیر والی شلوار اور قمیص میں ملبوس روفی بہت ہلکا لگتا تھا۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس کی شلوار کے نیفے میں اڑسی "ٹی ٹی” اس کو بھاری بناتی۔۔۔ بالکل اٹھارہ قیراط سونے کی طرح نرا کھوٹ مگر کہنے کو سونا۔۔
آج کل اس کے ذمے دکانوں پر پرچیاں پہنچانے کا کام تھا۔۔۔ اور رات کا کھانا تو تھا ہی کسی نہ کسی دکاندار کے ذمے جو اپنی یہ ذمہ داری جی جان سے نبھاتے۔۔ علاقہ میں مشہور ترین فوڈ اسٹریٹ بھی اب شامل ہوگئی تھی۔

” سالا حرامی۔۔۔۔ سالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی ہمت۔۔۔۔۔۔۔ میں تو سالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔” آج روفی "ٹُن ” ہونے کے باوجود رواں تھا۔۔ ایک دم صاف زبان۔
” کیا ہوا جگر؟” بابو بھائی نے تشویش سے پوچھا۔۔۔ ساتھ ہی وہ ادھر ادھر دیکھتے جا رہے تھے۔
” کہیں کسی نے پیسے تو نہیں مانگ لیے؟” ان کی آنکھوں میں تشویش کی لہر صاف دیکھی جاسکتی تھی۔ بے شک سب ان کی نگرانی میں ہوتا تھا مگر "ٹُن” ہو کر غل غپاڑہ کبھی نہیں ہوا تھا۔۔
” آج تو حاجی صاحب نہیں بخشیں گے۔۔” بابو بھائی کو اپنے ابا یاد آئے۔۔ جنہوں نے روفی کو یہاں بیٹھنے دینے پر سخت اعتراض کیا تھا۔
” یہ بھی مصیبت ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔” بابو بھائی اب پچھتانے لگے تھے۔۔۔۔ کل بھی اس نے محلے کے ایک لڑکے کو جو کہ پولیس میں کانسٹیل تھا۔۔ بری طرح مارا تھا۔۔۔۔ وجہ صرف یہ تھی کہ اس نے دبے لفظوں میں کھلے عام پینے کی مخالفت کی تھی۔
” اس سالے نے اپنے باپ کو انکار کیا ہے؟” بابو بھائی اس تئیس چوبیس سالہ نوجوان کی پیٹھ سہلا رہے تھے۔۔ جو اتنی سی عمر میں کسی باپ بنا جا رہا تھا۔
” کچھ بول تو سہی۔” بابو بھائی نے پچکارا۔۔
اچانک روفی رونے لگا۔۔ اور وجہ بابو بھائی کی سمجھ آگئی۔۔
کچھ سال پہلے اس "وجہ” کا نام ” نازیہ” تھا اور اب ” سورٹھ۔۔”
” ارے جگر فکر کاہے کی ہے۔۔” بابو بھائی کے نزدیک محبت کا مسلک تو تھا ہی نہیں اب اس میں ذات پات بھی شامل ہوگئی تھی۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
” واحد بھائی بہت غصے میں ہے۔۔”
” روفی کو ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔۔”
” کیا کرلے گا؟ رو دھو کر چپ ہی ہونا پڑے گا۔۔”
” بھئی یہ لوگ انتقام لیتے ہیں۔۔۔۔ نہیں چھوڑے گا دیکھ لینا۔۔”

اور ادھر واحد بھائی بابو بھائی کے باپ جو عرف عام میں حاجی صاحب کہلاتے تھے ان کے پاس کھڑا رو رہا تھا۔
” ماں قسم ہمارا بیٹی ایک دم معصوم ہے۔۔۔ اڑے آپ بات کرو نا اس کے باپ سے۔۔ کچھ کرو نہیں تو اس کا ماں رو رو کر اپنا جان دے دے گا۔۔”
حاجی صاحب ٹہل رہے تھے اور ساتھ بابو کو گھورتے جاتے۔۔۔
” واحد بھائی! ہمارا کیا لینا دینا اس سب سے؟”
” اڑے بیٹا وہ بھی تو تم لوگ کے ساتھ ادر ہی سیڑھیوں پہ بیٹھنا میٹھتا تھا۔۔ کچھ کرو نئیں تو ام برباد ہوگیا۔ پورا برادری میں منہ دکھانے لائق نہیں رہا۔۔۔”
” بیٹھتا تو تھا مگر اس کے کیے کے ہم کوئی ذمہ دار ہیں کیا۔۔”
” فکر نہیں کرو واحد ہم بات کریں گے اس کے باپ سے۔۔” اچانک حاجی صاحب کچھ فیصلہ کن انداز میں سوچ کر بولے۔
” ابا آپ ان لوگوں کو نہیں جانتے ہم کیسے کچھ کہہ سکتے ہیں؟”
واحد جو پرامید نظروں سے حاجی صاحب کو دیکھ رہا تھا مایوس ہوا۔
” تم گھر جاؤ واحد دیکھتے ہیں کیا ہوسکتا ہے۔”
” لو اپنی لڑکیاں سنبھالے نہیں جاتیں اور جب چڑیاں اڑ جائیں تو واویلہ کرتے ہیں۔۔” بابو نے دل میں سوچا۔۔

٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔٭
روفی کہاں گم گیا کچھ علم نہیں ہوا۔۔ جیسے ایک دن اچانک بیٹھنا شروع کیا تھا ویسے ہی اچانک غائب بھی ہوگیا۔ واحد کی لڑکی کا مسئلہ بھی وقت کی دھول تلے آ گیا اور دھول اب بیٹھ گئی تھی۔
موسم خاصا تبدیل ہوچکا تھا۔۔۔۔ اب سرشام ٹھنڈی ہوا چلتی۔۔ ایسی ہی ایک خوشگوار شام میں محلے والوں نے دیکھا۔۔ روفی اپنے مخصوص حلیے میں چلا آ رہا ہے۔۔ صحت پہلے سے بہتر ہوگئی تھی۔
” آؤ جگر آؤ۔۔۔” بابو بھائی نے لپک کر اس کا استقبال کیا۔
” ارے واہ! کیا کام کیا ہے ایک دم مردوں والا۔” رضو سخت متاثر نظر آیا۔
” سب خیریت رہی نا؟” بابو بھائی کا انداز ٹٹولنے والا ہوا۔
” ارے۔۔۔۔ مجھے کوئی کچھ کہہ سکتا ہے بھلا۔۔۔۔۔” روفی پُرغرور مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔۔
” جگر! تمہارا یہاں آنا ابھی مناسب نہیں ہے۔۔”
” ارے۔۔۔ میں روفی ہوں روفی۔۔۔۔ یہاں ہی بیٹھوں گا۔۔۔۔ اور آج تو کھانا بھی سالے سسر کی دوکان سے آئے گا۔۔”
انسان جب بھی تکبر کرتا ہے اس سے امان واپس لے لی جاتی ہے۔ یہ شیطان کا ہتھیار ہے اور فقط ذات باری تعالٰی کو زیبا۔۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭
” آج کتنے اٹھائے۔”
” پورے پینتالیس۔۔۔” رضو نوٹ گن رہا تھا۔۔۔۔ سیل فون وہ بتانا بھول گیا۔۔۔
” لگتا ہے شاپنگ کرنے نکلے تھے۔” رضو کو جیسے کچھ سوچ کر ہی مزہ آیا۔۔
” آنٹی موٹی کتنی تھی نا۔۔۔۔ مگر کڑے خوب پہنے تھے۔۔۔ مگر جلدی میں اتارے نہیں جاسکے۔۔” ایک اور بولا۔
” انکل اکڑ دکھا رہا تھا۔۔۔ مگر گن رکھتے ہی اس کا کام ہوگیا۔”

روفی کی گن بہت کام آتی تھی۔ جس کی چیز ہو اس کے ہی وقت پر کام نہ آئے تو؟

” یار! میرا دم گھٹ رہا ہے۔۔۔۔” روفی ٹہل رہا تھا۔۔۔
وہ وارداتوں میں شریک نہیں ہوتا تھا۔۔۔ اس کو تو بس اپنا حصّہ لینے کی عادت تھی۔۔۔۔ زندگی تو سانس کے آنے جانے کا نام ہے۔۔۔۔۔۔ آنے اور جانے کی گنتی میں تسلسل نہ ہو تو نری پریشانی اور یہی پریشانی اس وقت اسے لاحق تھی۔
” ارے جگر! ہوا کیا ہے؟” بابو بھائی ساری تفریحوں میں حصّہ لیتے تھے مگر لوٹ مار اور پینے پلانے سے دور، ان کا شغل دوسروں کی مدد کرنا تھا۔۔۔ جیسے ابھی ان کو اپنی اسٹیٹ ایجنسی کا ایک کمرہ دے رکھا تھا۔ تاکہ خفیہ شغل یہاں پورے ہوسکیں۔۔۔ اور محلے کی آشتی برقرار رہے۔۔۔
” چل باہر چلتے ہیں۔۔” ای – 97 لے کر آج رضو بڑا خوش تھا۔۔ اور اکیلے اس خوشی کو منانا چاہتا تھا۔۔۔
” ہاں چلو۔۔ کھلی ہوا میں بیٹھو گے تو اچھا لگے گا۔۔” بابو بھائی نے لقمہ دیا۔۔
کھانا انہوں نے ساتھ ہی کھایا تھا۔۔۔ اور اس کے بعد پینا پلانا بھی خوب ہوا تھا۔۔
” لگتا ہے آج چڑھ گئی ہے۔۔”
” میں سیڑھیوں پہ بیٹھوں گا۔۔۔۔”
” ہاں ہاں بیٹھو جگر۔۔۔۔۔۔”

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔٭
” تم سب ساتھ تھے نا اس کے؟ ہاں۔۔۔۔” روفی کا باپ غیض و غضب کے عالم میں ٹہل رہا تھا۔۔
” اور تو؟ تیرے بھروسے میں نے اس کو وہاں بیٹھنے کی اجازت دی تھی۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ ” اس نے بابو بھائی کا گریباں پکڑا۔
” کیسے ہوا یہ؟ ہاں۔۔۔۔۔۔” مگر بابو بھائی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ان کو اب خاموش رہنا تھا۔۔۔۔ نہیں تو؟

” اس دن روفی کا دل گھبرا رہا تھا۔ میں اس کو سیڑھیوں پہ چھوڑ کر گھر تک گیا تھا اور رضو کی طبعیت اچھی نہیں تھی تو یہ جلدی گھر چلا گیا تھا۔۔۔۔”
” سالے سور۔۔۔ یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ یہ کہا گیا ہے تم لوگ کو بولنے کو۔۔ مگر اصل بات بتا کیا ہوا تھا وہاں؟ ہاں۔۔۔۔۔۔”
بابو بھائی کی نظروں میں وہ رات آ گئی۔۔
اس رات وہ لوگ سیڑھیوں پہ ہی بیٹھے تھے اگلی گلی میں مہندی کا فنکشن چل رہا تھا میوزک خوب تیز تھا اور یہ لوگ بھی ساتھ انجوائے کر رہے تھے۔۔۔ اچانک ایک موٹر سائیکل آ کر ٹھہری۔۔ روفی کو کچھ غیرمعمولی ہونے کا احساس نے چوکنا کیا۔۔۔۔۔ وہ اس کی توقع سے زیادہ ہی پھرتیلے تھے۔۔۔۔ انہوں نے گن اس کی پیشانی پہ رکھی۔
” سب پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔ اپنے اپنے گھروں کو جاؤ۔”
اور اس کے بعد سب نے تین گن شاٹس کی آواز سنی۔۔۔ مگر وہ کچھ نہیں کر پائے۔۔۔۔ وہ اس وقت تک وہیں کھڑے رہے۔ جب تک ان کا کام مکمل نہیں ہوگیا۔۔۔۔ بعد میں وہ سب روفی کو ہاسپٹل لے کر بھی بھاگے۔۔۔ مگر کرنے والوں نے اپنا کام پورا کیا تھا۔۔
فوراً بڑی خبر چلنے لگی علاقے میں ایک شخص ٹارگٹ کلرز کا نشانہ، علاقے میں کشیدگی، دوکانیں اور کاروبار بند۔۔
” یہ دو ہاتھیوں کی لڑائی ہے تم کو چپ رہنا ہوگا۔۔۔ نہیں تو گنے کی طرح پیل دیے جاؤ گے۔۔” یہ مشورہ بیان لینے والا ایک پولیس آفیسر کا تھا۔ بیان بھی اسی نے رٹوایا تھا۔

” تڑاخ۔۔۔۔۔۔۔!!!” یہ تڑاخ بابو بھائی کے منہ پر پڑا تھا جس سے وہ حال میں لوٹے۔
” وہاں رکھے پانچ چائے کے کپ۔۔۔ آدھ گھنٹے پہلے چار لوگوں کا ایک ساتھ کھانا کھانا۔۔۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ اور تم سب مجھے یہ بتا رہے ہو کہ وہاں کوئی نہیں تھا۔ ہاں۔۔۔۔۔ پوری بستی کو قبرستان بنا دوں گا۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ اپنے بیٹے کے خون کی قسم۔۔۔”
سیڑھیوں پہ پڑے اس کے خون پر چادر ڈال دی گئی۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

سیڑھیاں ویران ہوگئیں۔۔۔ سیڑھیوں پہ بیٹھنے والوں کو یہ پیغام پہنچ چکا تھا۔۔۔۔ اب ان سیڑھیوں پہ کوئی بیٹھا نظر نہیں آئے۔۔۔ روفی کے خون پہ ڈھکی چادر اب چیتھڑوں میں تبدیل ہوتی جارہی تھی۔۔۔۔ اس کا انتقام ہنوز لیا جا رہا تھا مگر کس سے؟

ہوا اس دن بہت تیز تھی۔۔ بارش وقفے وقفے سے جاری تھی۔۔۔ ہوا روفی کے خون پر ڈھکے چیتھڑے اڑا لے گئے بارش نے خون کا دھبہ صاف کر دیا۔۔۔۔ جب کچھ باتیں انسانوں کے ہاتھ سے نکل جاتی ہیں تو قدرت سنبھال لیتی ہے۔ سب اللہ پاک پر بھروسہ کرتے ہیں اس سے توقعات باندھتے ہیں۔ کرنا بھی یہی چاہیے۔۔۔ وہ اسی کا حقدار ہے۔۔۔ سب کچھ اس کی ذات کو زیبا ہے۔۔۔۔ کبھی سوچا کسی نےکچھ بھروسہ اس نے حضرت انسان پہ کر کے زمین کی خلافت سونپی تھی۔۔۔

” میں تھک گیا ہوں، بیگ بھی بہت بھاری ہے۔۔۔ تھوڑی دیر یہاں بیٹھ جاتے ہیں۔۔” لال بیگ نے کہا
” چلو یہاں سے۔۔۔ یہاں بیٹھا منع ہے۔۔۔” نیلے بیگ نے تنبیہ کی۔
” پانچ منٹ میں کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔ اور ٹیوشن پڑھنے بھی تو جانا ہے نا۔۔۔۔۔”
بچوں کی آپس میں گفتگو چل رہی تھی۔۔ وہ اپنی پڑھائی کو لے کر پریشان تھے۔ ان کو اپنے مستبقل کی فکر تھی۔۔۔ مستقبل کی جو فکر آج کرلیتے ہیں۔ ان کا آج اور مستقبل دونوں سنور جاتا ہے۔۔
نیلے بیگ نے بھی سیڑھیوں پہ بیگ پٹخا مگر لال بیگ نے روک دیا۔۔
” دیکھ کر۔۔۔ یہاں ایک ننھی کونپل ہے۔۔” اس نے اوک بنا کر اس کو جیسے پناہ دی۔۔
آج سیڑھیوں پہ پہلی بار کسی کونپل کو پناہ ملی تھی جینے کا حق دیا گیا تھا۔۔

ختم شد

Advertisements

One thought on “سیڑھیاں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s